انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 273

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۷۳ سیر روحانی (۵) کر دیتی۔وہ فرانسیسی لڑکی تھی اور جرمن زبان کا ایک حرف بھی نہیں جانتی تھی۔جب دورے میں اس نے جرمن زبان میں باتیں شروع کیں تو ڈاکٹروں نے شور مچا دیا کہ اب تو جن ثابت ہو گئے۔یہ لڑکی تو جرمن زبان نہیں جانتی یہ جو جرمن زبان بول رہی ہے تو ضرور اس کے سر پر جن سوار ہے۔آخر ایک ڈاکٹر نے اس کے متعلق تحقیقات شروع کی وہ حافظہ کا بہت بڑا ماہر تھا۔جب اُس نے تحقیق کی تو اسے معلوم ہوا کہ جب یہ لڑکی دواڑھائی سال کی تھی تو اُس وقت اس کی ماں ایک جرمن پادری کے پاس ملازم تھی۔جب وہ پادری جرمن زبان میں سرمن پڑھتا تھا تو یہ لڑ کی اُس وقت پنگھوڑے میں پڑی ہوتی تھی۔جب اُسے یہ بات معلوم ہوئی تو وہ اس جرمن پادری کی تلاش میں نکلا اُسے معلوم ہوا کہ وہ جرمن پادری اِس وقت پین میں ہے۔پین پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ وہ پادری ریٹائر ہو کر جرمنی چلا گیا ہے اس کی تلاش میں جرمنی پہنچا، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پادری مر گیا ہے۔مگر اس نے اپنی کوشش نہ چھوڑی اور اس نے گھر والوں سے کہا کہ اگر اس پادری کے کوئی پُرانے کاغذات ہوں تو وہ مجھے دکھائے جائیں۔گھر والوں نے تلاش کر کے اسے بعض کا غذات دیئے اور جب اس نے ان کا غذات کو دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ دعائیں جو بیہوشی کی حالت میں وہ لڑکی پڑھا کرتی تھی وہ وہی اس پادری کی سرمن تھی۔اب دیکھو! دو اڑھائی سال کی عمر میں ایک پادری نے اس کے سامنے بعض باتیں کیں جو اس کے دماغ میں اللہ تعالیٰ نے محفوظ کر دیں۔بچہ کے کان میں اذان اور یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کے گھر میں بچہ پیدا ہو تو فوراً اقامت کہنے کی حکمت اس کے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں اقامت کہو۔۳۵ یورپ کے مدبرین نے تو آج یہ معلوم کیا ہے کہ انسانی دماغ میں سالہا سال کی پُرانی چیزیں محفوظ رہتی ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی تم اس کے کان میں اذان کہو کیونکہ اب وہ دنیا میں آ گیا ہے اور اس کا دماغ اس قابل ہے کہ وہ