انوارالعلوم (جلد 22) — Page 261
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۶۱ سیر روحانی (۵) نظام آسمانی میں دخل (۸) پھر نظام سماوی میں دخل دینے والے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: - إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ دینے والوں سے سلوک الدُّنْيَا بزينة الكواكب وحفظا من كل شَيْطَنٍ مارين لا يَسْمَعُونَ إِلَى الْمَلا الأعلى ويُقَدِّنُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ ) دحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ واصِبُ إلَّا مَن خَطِفٌ الْخَطْفَةَ فَاتْبَعَهُ شِهَابٌ نَاقِب فرماتا ہے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قانون شکنی کی کوشش کرتے ہیں وہ قانون کو بگاڑ کر اس کی اصل شکل کو مسخ کر دیتے ہیں اور اس طرح قانون کی غرض کو ضائع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے اس قانون کے خلاف بھی لوگ کوششیں کریں گے اور اس کو بگاڑنے کے لئے ہر قسم کی تدابیر سے کام لیں گے مگر ہم تمہیں پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ ہمارے قانون کو کوئی بگاڑ نہیں سکتا کیونکہ ہم نے اپنے روحانی آسمان کو کواکب کے ساتھ ا مزین کیا ہے۔اس جگہ روحانی آسمان سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کواکب سے مراد صحابہ کرام کی جماعت ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ایسے رنگ میں حفاظت کی کہ جس کی مثال دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں مل سکتی۔اسی حقیقت کی طرف رسول کریم صلی اللہ سماء روحانی کی کواکب سے حفاظت علیہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ اَصْحَابِيْ كَالنُّجُومِ بِاتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ۲۹ میرے سب صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔پس ستارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنا زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِزِينَةِ الكوار کب یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سماء دنیا ہے اس کی حفاظت کے لئے ہم نے کو اکب مقرر کر دیئے ہیں۔اگر کوئی شخص اس کے لائے ہوئے قانون کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو یہ ستارے اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس کے ہاتھوں کو شل کر دیں گے۔چنا نچہ دیکھ لو قرآن کریم کے خلاف دشمنانِ اسلام