انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 244

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴۴ سیر روحانی (۵) میں رہے اور وہیں آپ نے وفات پائی۔مسلمانوں کے تحفظ اور غرض اسلام کے احکام پر عمل کرنا ایک بہت بڑا مجاہدہ ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم بغیر کسی حقیقی ان کی بقاء کا صحیح طریق ضرورت کے ایک سے زیادہ شادیاں کرو۔وہ ضرورت حقہ کے ساتھ اِس کی اجازت کو مشروط قرار دیتا ہے اور جب ضرورت حلقہ پیدا ہو جائے تو پھر ایک سے زیادہ شادیوں پر اعتراض کرنا درست نہیں۔جب بہار میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو وہاں کے کچھ لوگ قادیان آئے اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ اب ہمارے بچاؤ کا کیا طریق ہے؟ میں نے کہا قرآن کریم نے دو علاج بتائے تھے مگر وہ دونوں تم نے چھوڑ دیئے ہیں۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ تبلیغ کرو مگر تم نے تبلیغ ترک کر دی اگر سارے مسلمان تبلیغ پر زور دیتے تو آج انہیں ایک ہندو بھی ہندوستان میں نظر نہ آتا۔دوسرا علاج اسلام نے یہ بتایا تھا کہ تم چار چار شادیاں کرو تم ایک ہی نسل میں آٹھ گنا ہو جاؤ گے دوسری نسل میں سولہ گنا ہو جاؤ گے اور تیسری نسل میں بہتیس گنا ہو جاؤ گی گے۔میں نے کہا اس وقت کئی اچھوت اقوام موجود ہیں اگر تم اُن کی بیٹیاں لینی شروع کر دو تو وہ شوق سے اپنی لڑکیاں تمہارے ساتھ بیاہ دیں گے اور ہر عورت کم سے کم چار بچے جنے گی نتیجہ یہ ہوگا کہ پچاس سال کے بعد تم آٹھ سے بتیس کروڑ ہو جاؤ گے۔غرض خدا تعالیٰ نے علاج تو بتایا ہے لیکن اگر تم عمل نہ کرو تو کیا کیا جائے۔گزشتہ جنگ کے بعد کئی یورپین قوموں میں یہ تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اگر وہ اپنی تعداد کو بڑھانا چاہتی ہیں تو انہیں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہونی چاہئے۔اقلیت کے لئے طاقت حاصل کرنیکا نسخہ غرض ایک سے زیادہ شادیاں اقلیت کے لئے طاقت حاصل کرنے کا ایک زبر دست ذریعہ ہے۔دو نسلیں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال لیں تو مسلمانوں کی تمام مشکلات دُور ہو سکتی ہیں اور وہ مغلوب ہونے کی بجائے ایک غالب قوم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہماری اولاد ہوئی تو وہ کھائے گی کہاں سے؟