انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 241

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴۱ سیر روحانی (۵) موجود ہے کہ اگر وہ ہماری کتاب میں ہوتی تو ہم اس آیت کے نازل ہونے والے دن کو عید مناتے۔آپ نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ انہوں نے کہا اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الاسلام دینا، یہ آیت اگر ہماری بائیبل میں ہوتی تو ہم اس خوشی میں عید مناتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کیا جانو جس دن یہ آیت اتری ہے اُس دن ہمارے لئے دو عید میں جمع تھیں، یہ حج کے دن نازل ہوئی ہے اور حج کے دن پہلے سے عید چلی آ رہی ہے اور پھر وہ جمعہ کا دن تھا اور جمعہ بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے۔تعدد ازواج پر بعض حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی تعلیم ایسی نہیں ہے جس پر چل کر انسان ذلیل ہو سکے۔وہ چیزیں جن پر دنیا انگریزوں سے گفتگو اعتراض کرتی ہے وہ بھی ایسی ہیں کہ اگر ان کو لوگ صحیح طور پر سمجھ جائیں تو ان کے اعتراضات بند ہو جائیں۔میں جب ولایت گیا تو ایک دفعہ بعض انگریز مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔چونکہ انگریزوں میں عام طور پر یہ مشہور ہے کہ اسلام میں عورتوں پر بہت ظلم کیا جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ وہ تعدد ازواج کو بھی قرار دیتے ہیں اس لئے انہوں نے اس موضوع پر مجھ سے گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ اسلام میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی ہے جو بڑی خطر ناک بات ہے اور کوئی فطرت اسے برداشت نہیں کر سکتی۔میں نے کہا کیا یہ بہت بُری تعلیم ہے؟ انہوں نے کہا بہت بُری تعلیم ہے۔میں نے کہا میری اس وقت تین بیویاں ہیں ( اس وقت میری تین بیویاں تھیں) کہنے لگے آپ کی تین بیویاں ہیں ؟ آپ تو بڑے روشن خیال آدمی ہیں آپ نے یہ کیا کیا ؟ میں نے کہا جب آپ مجھے روشن خیال تسلیم کرتے ہیں تو پھر آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ میں نے کوئی ظلم نہیں کیا۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ اسلام نے بے شک بعض حالات میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی ہے مگر اسلام نے اس کے ساتھ کئی قسم کی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں جن کی موجودگی میں کوئی شخص محض عیاشی کے لئے ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کر سکتا۔اسلام کہتا ہے اگر تم ایک سے زیادہ شادیاں کرو