انوارالعلوم (جلد 22) — Page 234
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۴ سیر روحانی (۵) وہ کہنے لگی کہ بہاء اللہ نے علم سیکھنے کا حکم دیا ہے یہ کتنی اچھی بات ہے۔میں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس حکم پر اتنا زور دیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں جس شخص کی دولڑکیاں ہوں اور وہ اُن کو اچھی تعلیم دلائے اور نیک تربیت کرے تو اُس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔اس پر وہ کہنے لگی بہاء اللہ نے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا حرام قرار دیا ہے لیکن قرآن اس کی تعلیم دیتا ہے۔امریکہ اور انگلستان اور یورپ اسلام کی اس تعلیم کو نہیں مان سکتا اور دنیا اس ظلم کو بھی برداشت نہیں کر سکتی۔میں نے کہا میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ دنیا اس ظلم کو برداشت کر سکتی ہے یا نہیں تم پہلے مجھے یقینی طور پر بتا دو کہ بہاء اللہ نے ایک سے زیادہ شادیاں منع کی ہیں؟ اُس نے کہا ہاں بالکل منع ہے۔وہ ایرانی عورت جو ان کے ساتھ تھی وہ عبد البہاء کے پاس چھ ماہ رہ کر آئی تھی اور اُس نے ان سے خاص تعلیم پائی تھی۔میں نے کہا اس سے پوچھو کہ آیا بہاء اللہ کی اپنی دو بیویاں تھیں یا نہیں؟ تم تو کہتی ہو کہ ایک سے زیادہ شادیاں منع ہیں اور بہاء اللہ نے آپ دوشادیاں کی ہیں۔کہنے لگی آپ پالکل الزام لگا رہے ہیں بہاء اللہ نے ہرگز دوشادیاں نہیں کیں۔میں نے کہا اس ایرانی عورت سے پوچھو۔اُس سے پوچھا تو وہ کہنے لگی اجی مجھے اس جھگڑے میں کیوں گھسیٹتے ہیں آپ آپس میں بات کیجئے اور مجھے رہنے دیجئے۔میں نے کہا اس میں گواہی کا سوال ہے آپ سچی گواہی کیوں چھپاتی ہیں جو واقعہ ہو وہ آپ بتا دیں۔کہنے لگی کہ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ دوشادیاں دعوی سے پہلے کی تھیں۔اس پر پہلی عورت نے شور مچا دیا کہ بس جواب ہو گیا یہ دعوئی سے پہلے کی شادیاں تھیں۔میں نے کہا تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ امام اپنی پیدائش کے وقت سے علم غیب رکھتا ہے جب اسے پتہ تھا کہ ایک سے زیادہ شادیاں رڈ کی جائیں گی تو پھر اُس نے خود کیوں ایک سے زیادہ شادیاں کیں؟ یا تو یہ کہو کہ وہ علم غیب نہیں رکھتا تھا اور یا یہ کہو کہ اس نے خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف فعل کیا۔اور اگر وہ علم غیب نہیں رکھتا تھا تب بھی اس کی خدائی باطل ہے اور اگر خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف اس نے فعل کیا تب بھی وہ قابلِ اعتراض ٹھہرتا ہے۔اور پھر سوال یہ ہے کہ اگر یہ حکم بعد میں نازل ہوا تھا تو اُس نے دوسری بیوی رکھی کیوں؟