انوارالعلوم (جلد 22) — Page 218
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۱۸ سیر روحانی (۵) بنائیں اگر وہ اس لئے آتے تو مدینہ منورہ میں نہریں بھی ہوتیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے نہیں آئے تھے کہ بڑے بڑے مقبرے بنائیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پکی قبر بنانے سے بھی منع فرمایا ، اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بھول بھلیاں بنانے کے لئے آئے تھے نہ مینا بازار بنانے کیلئے آئے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ پیغام لے کر آئے تھے کہ آؤ میں تمہیں خدا تعالیٰ سے ملا دوں۔بیشک باقی چیزیں بھی مسلمانوں کو ملیں مگر وہ تابع تھیں اصل مقصود اور مطلوب نہیں تھیں۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں مقصود ہوتی ہیں اور بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو توابع کے طور پر ملتی ہیں اور تابع چیزوں کو اپنے مدنظر رکھنا اور اُن کو اپنا مقصود قرار دے لینا نہایت شرمناک ہوتا ہے۔ہم اپنے دوست کے گھر جاتے ہیں تو ہماری اصل خواہش یہی ہوتی ہے کہ ہم اپنے دوست سے ملیں مگر ہمارا دوست ہمارے لئے پلاؤ بھی پکاتا ہے ، مرغ بھی پکا تا ہے، کوفتے بھی پکاتا ہے ، چائے بھی رکھتا ہے۔اگر ہم اپنے دوست سے اس لئے ملنے جائیں کہ وہاں ہمیں پلاؤ ملے گا ، چائے ملے گی یا کوفتے ملیں گے تو ہم کتنے کمینے ہوں گے۔اگر آپ لوگ اپنی ماں سے اس لئے ملنے جائیں کہ وہ آپ کی خاطر تواضع کرے گی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ بڑے کمینے ہیں۔اگر آپ اپنے باپ سے اس لئے ملنے جائیں کہ وہ آپ کو اچھے اچھے کھانے کھلائے گا تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ بڑے کمینے ہیں۔اگر آپ اپنے دوست سے اس لئے ملنے جاتے ہیں کہ وہ آپ کو پلاؤ کھلائے گا یا مرغ آپ کے لئے ذبح کر یگا تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ بڑے کمینے ہیں۔لیکن اگر آپ اپنی ماں سے ملنے کے لئے جائیں گے تو وہ آپ کے لئے چائے ضرور پکائے گی ، آپ کے لئے پراٹھے ضرور تیار کرے گی۔اگر آپ اپنے باپ کو ملنے جائیں گے تو وہ کچھ نہ کچھ کھانا ضرور پکائے گا۔اگر آپ اپنے دوست کو ملنے جائیں گے تو وہ آپ کی کچھ نہ کچھ تواضع ضرور کریگا۔تو دیکھو بات وہی بن جاتی ہے لیکن طریق مختلف ہو جاتا ہے۔ایک صورت میں پلاؤ بھی ملے گا اور کمینے بھی بن جاؤ گے۔لیکن اگر تم اپنے دوست کے پاس محض اس سے ملنے کے لئے جاؤ تو پلاؤ پھر بھی ملے گا مگر تم نہایت شریف الطبع اور با اخلاق