انوارالعلوم (جلد 22) — Page 219
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۱۹ سیر روحانی (۵) انسان کہلاؤ گے۔تو اسلام وہ طریق بتاتا ہے جس پر چلنے سے دُنیوی حکومتیں اور اُس کی نعمتیں خود بخود آ جاتی ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو تو یہ چیزیں تمہیں خود بخود مل جائیں گی مگر وہ ان چیزوں کو مقصود قرار نہیں دیتا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو وہ نعمتیں ملیں کہ دنیا حیران رہ گئی۔شہنشاہ ایران کا رومال حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو وہ آخری زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابو ہریرہ کے قبضہ میں وفات سے صرف تین سال پہلے ایمان لائے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اب بڑی عمر ہو چکی ہے اور آپ کی زندگی کے دن اب بظا ہر تھوڑے رہ گئے ہیں تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ با وجود اس کے کہ انہیں صرف تین سال ملے سب سے زیادہ حدیثیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہیں۔چونکہ یہ غریب آدمی تھے اور سارا دن مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اس لئے بعض دفعہ سات سات وقت کا انہیں فاقہ ہو جاتا تھا اور شدت بھوک کی وجہ سے وہ بیہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔جب اسلام کی فتوحات کا دور آیا اور قیصر و کسریٰ کے خزانے اسلامی تصرف میں آئے تو کسری شہنشاہ ایران کا ایک خاص ریشمی رومال جو تخت پر بیٹھنے کے وقت وہ اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا مال غنیمت میں تقسیم ہو کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آیا۔ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نزلہ کی شکایت تھی کہ بیٹھے بیٹھے انہیں کھانسی آ گئی اور کی انہوں نے شہنشاہ ایران کے اس رومال میں تھوک دیا اور پھر کہانی بیخ ابو ہریرہ یعنی واہ واہ ! تیری بھی کیا شان ہے کبھی تو سر میں جوتیاں پڑا کرتی تھیں اور آج یہ حالت ہے کہ تو کسری شہنشاہ ایران کے رومال میں تھوکتا ہے۔لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا؟ اس پر انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ میں آخری زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور میں نے قسم کھالی کہ اب میں رات اور دن آپ کے پاس رہوں گا اور