انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 197

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۹۷ متفرق امور بعض ممالک میں سینکڑوں مقامی شاخیں پائی جاتی ہیں۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں ہزاروں لوگ اس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔اس وقت بھی ایک انگریز سابق لیفٹیننٹ اور سیریا کا ایک بیرسٹر قادیان آئے ہوئے ہیں اور مذہبی ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں اور پھر جرمن کا ایک سابق فوجی افسر بھی بہت جلد قادیان آنے والا ہے ( یہ مسٹر کنزے ہیں جو ملک سے پہلے قادیان نہ پہنچ سکے تھے یہ اب پاکستان کے قیام کے بعد یہاں پہنچے ہیں) اسی طرحU۔S۔A ، ایران اور سوڈان سے بھی بعض لوگ یہاں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں ( قیام پاکستان کے بعد U۔S۔A سے مسٹر رشید احمد یہاں آچکے ہیں اور سوڈان سے مسٹر عباس ابراہیم آئے ہیں۔ایران سے ابھی تک کوئی نہیں آیا ) اس سے قبل افغانستان، انڈونیشیا، افریقہ اور چین سے بھی بعض لوگ یہاں آ رہے ہیں اس لئے مذہبی مراکز میں سے جو پوزیشن قادیان کو حاصل ہے وہ نہایت اعلیٰ ہے۔تقسیم ملک کی شرائط میں یہ چیز بھی شامل تھی کہ بعض اور امور کی بناء پر ملک کے کسی حصہ کو پاکستان یا ہندوستان میں شامل کیا جاسکتا ہے ) اگر دیگر امور میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کسی علاقہ کو بعض مذہبی وجوہ کی بناء پر بھی ہندوستان یا پاکستان میں شامل کیا جا سکتا ہے تو سب۔اہم جگہ قادیان کو پیش کرنی پڑے گی۔پھر بتایا گیا تھا کہ جماعت احمدیہ کی گل سات سو پنتالیس انجمنیں ہیں جس میں سے ۷۴ مغربی پنجاب اور پاکستان میں شامل ہیں اس لئے قادیان کو مغربی پنجاب یعنی پاکستان سے علیحدہ کرنا جماعت احمدیہ کے مستقبل کے لئے سخت نقصان دہ ہوگا۔اب دیکھو میمورنڈم میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں مگر احراری کہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں شامل ہونا نہیں چاہتے تھے۔یہ کتنا بڑا جھوٹ اور افتراء ہے۔ہر شخص کے دماغ میں کوئی نقص نہ ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس میں نہ تو کسی الگ یونٹ ہونے کا ذکر ہے اور نہ یہ سوال ہے کہ قادیان کو خود یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ آیا وہ ہندوستان میں شامل ہو یا پاکستان میں بلکہ محض یہ ذکر ہے کہ قادیان ایک اہم مذہبی مرکز ہے اور اس کے پاکستان کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں کہ اس کو اس سے علیحدہ کرنا نہایت