انوارالعلوم (جلد 22) — Page 192
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۹۲ متفرق امور کے۔اگر قادیان کے علاوہ کوئی احمدی نہ ہوتا تب بھی احمدیوں کے نکالنے سے مسلمان اقلیت میں آجاتے تھے۔پس احمدیوں سے علیحدہ محضر پیش کروانا مسلمانوں کے مفاد کے لئے نہایت ضروری تھا اور لیگ نے جو فیصلہ کیا وہ بالکل درست تھا۔۔دوسری بات یہ یادر کھنے کے قابل ہے کہ فیصلہ کے مطابق وقت صرف مسلم لیگ اور کانگرس کو ملنا تھا اگر مسلم لیگ ہمیں اجازت نہ دیتی تو احمدی میمورنڈم پیش نہ ہو سکتا تھا۔خان افتخار حسین خان صاحب ممدوٹ ، خواجہ عبدالرحیم صاحب سابق کمشنر چوہدری اکبر علی صاحب اور دوسرے مسلم لیگی لیڈر اس بات کے گواہ ہیں کہ وقت صرف مسلم لیگ کو دیا گیا تھا ہمیں براہ راست وقت نہیں ملا۔مسلم لیگ نے اپنے وقت میں سے ہمیں کچھ وقت دیا ور نہ ہم الگ محضر پیش ہی نہیں کر سکتے تھے۔پھر کمیشن کے دونوں مسلمان حج جسٹس محمد منیر اور سابق مسٹر جسٹس حال ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب گورنر سندھ بھی اس کے گواہ ہیں ان لوگوں کو معلوم ہے کہ اس میمورنڈم کے پیش کرنے میں برابران مسلمان جوں سے مشورہ کیا جاتا رہا کیونکہ ان جوں کے متعلق فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ قوم کے نمائندے ہیں۔میں خود مسٹر جسٹس منیر کی کوٹھی پر گیا ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب گورنر سندھ بھی وہاں آگئے تھے اسی طرح چوہدری نذیر احمد صاحب ممبر پبلک سروس کمیشن بھی اتفاقاً آ گئے میرے ساتھ شیخ بشیر احمد صاحب اور در دصاحب بھی تھے۔ہم نے اس میمورنڈم پر قانونی طور پر ڈسکس کی اور اس کی کا پیاں ہم نے ان میں سے اکثر کو الگ بھی دے دی تھیں۔پس یہ سوال نہیں کہ ہم نے مسلم لیگ سے الگ محضر کیوں پیش کیا بلکہ سوال یہ ہے کہ الگ محضر پیش کرایا گیا اور اس کی وجہ میں بتا چکا ہوں کہ احرار کی یہ شرارت تھی کہ احمدی مسلمان نہیں اور اس کا انہوں نے پروپیگینڈا کیا ہو ا تھا۔اگر ہم علیحدہ پیش نہ ہوتے تو ریڈ کلف کو ادھر اُدھر کے بہانے بنانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔وہ احراریوں کا فتویٰ پیش کر کے کہہ سکتا تھا کہ چونکہ احمدی مسلمان نہیں اس لئے ان کو نکال دیا جائے تو مسلم آبادی ۴۵ فیصد ہی رہ جاتی ہے اس لئے یہ ضلع ہندوستان میں شامل ہونا چاہئے۔اس میمورنڈم کو پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ریڈ کلف کو بہانے تلاش کرنے پڑے جس کی وجہ سے ہم آج تک