انوارالعلوم (جلد 22) — Page 165
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۶۵ متفرق امور تھے اب ہماری مخالفت میں پیش پیش ہیں۔اُس وقت میں نے جماعت سے کہا تھا کہ یہ وقت بہت اچھا ہے تم تبلیغ کرو لیکن کئی لوگ ایسے تھے جنہوں نے مجھے کہا کہ آپ کچھ دن ٹھہر جائیں۔اس وقت لوگ ہم پر بہت خوش ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ناراض ہو جائیں لیکن میں سمجھتا تھا اگر تم نے اس موقع سے فائدہ نہ اُٹھایا تو کچھ عرصہ کے بعد انہی لوگوں کا رویہ تمہارے خلاف ہو جائے گا اور یہی لوگ تمہارا گلا کاٹنے کو دوڑیں گے لیکن جماعت نے اس طرف توجہ نہ کی۔اور اب جب شورش پیدا ہوگئی ہے تو کہتے ہیں ذرا ٹھہر جانا چاہئے۔ابھی ان لوگوں کو تبلیغ نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے خلاف ہیں۔گو یا تبلیغ نہ تو امن میں ہو سکتی ہیں اور نہ فساد میں۔پھر تبلیغ ہو گی کس وقت ؟ بہر حال جماعت نے پہلے غلطی کی ہے اور اب اس کی اصلاح اسی طرح ہو سکتی ہے کہ وہ موجودہ شورش کی پرواہ نہ کریں اور زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغ میں صرف کریں۔جو جماعتیں ہماری مخالفت میں زیادہ سرگرم ہیں وہ احرار، اسلامی جماعت اور علامہ عنایت اللہ مشرقی کی اسلام لیگ ہیں۔مجلس احرار نے متواتر تقاریر میں احمدیوں کے قتل کی تحریک کی ہے۔جہاں جہاں مجلس احرار کے لیڈروں کی تقاریر ہوئی ہیں جماعت کے لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے کھلے بندوں یہ کہا کہ احمدیوں کو قتل کر دو۔منٹگمری میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ احمدیوں کے مکانوں پر پہلے نشان لگا دو اور پھر ایک رات سب کو قتل کر دو۔یہ نشان لگانے کی ترکیب نرالی ہے نئی نہیں۔پرانے زمانہ میں بھی جب ڈاکو حملہ کرنے والے ہوتے تھے تو وہ جس مکان پر اُنہوں نے حملہ کرنا ہوتا تھا اُس پر پہلے نشان لگا دیتے تھے۔کہتے ہیں ایک دفعہ ایک گھر پر حملہ کرنے کے لئے دو ڈاکوؤں نے نشان لگایا۔اُس گھر میں ایک ہوشیار کو نڈی تھی وہ باہر آئی اتفاقاً اُس کی نظر اس نشان پر پڑ گئی۔وہ گھبرا گئی لیکن کچھ دیر سوچنے کے بعد اُس نے اپنے مکان کے ارد گرد کچھ اور مکانوں پر بھی وہی نشان لگا دیا۔ڈاکو آئے تو انہیں اس مکان کا پتہ نہ لگ سکا۔میں جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ ایسی ذہانت سے کام لینا چاہئے۔تم اگر اپنے مکانوں پر کوئی نشان لگا ہوا دیکھو تو ویسا ہی نشان تم اپنے اردگرد کے اور مکانوں پر بھی لگا