انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 154

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵۴ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سارے علوم کسی ایک شخص کو آتے ہوں اور جب کوئی شخص کسی غلط جگہ پر جائے گا تو لازماً اُسے غلط مشورہ ہی ملے گا۔مولوی صاحب کا بھی اگر یہ مضمون رکھا جاتا کہ خدا تعالیٰ نے اس بارہ میں کیا کہا ہے تو آپ لوگ دیکھتے کہ وہ کس طرح دھواں دھار تقریر کرتے اور قرآن کریم کی آیتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں دھڑا دھڑ پیش کرتے چلے جاتے مگر مضمون یہ تھا کہ مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط کیوں ممنوع قرار دیا گیا ہے اور کیوں کا جواب ہمارے مولوی کو نہیں آتا۔تم کسی مولوی سے پوچھو کہ اس بارہ میں خدا تعالیٰ نے کیا کہا ہے تو دیکھو وہ کیسی دُھواں دھار تقریر کرنی شروع کر دے گا مگر یہ پوچھو کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں کہا ہے ؟ تو وہ خاموش ہو جائے گا کیونکہ ”کیوں“ سائیکالوجی کا مضمون ہے اور یہ مولوی کو نہیں آتا وہ یہ تو بتا سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ، حدیث میں یوں آتا ہے مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا کیوں ہے۔پس اصل سوال یہ نہیں کہ مولوی صاحب نے ایسی غیر محتاط باتیں کیوں کہیں ، سوال یہ ہے کہ آجکل کے مولویوں کی تعلیم رکن بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔اگر تعلیم کی بنیا دروایات اور نقل پر ہے تو وہ کیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔اس کا جواب علم النفس کا کوئی ماہر ہی دے گا۔میری ایک بیوی مجھ سے اپنی تقریر کے متعلق مشورہ کرنے آئیں اور مجھے کہا کہ اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے فلاں مضمون لیا ہے اُس کے متعلق مجھے نوٹ لکھوا دیں۔میں کئی لوگوں کو نوٹ لکھوایا کرتا ہوں۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی بعض دفعہ مختلف مضامین کے متعلق میرے پاس مشورہ کے لئے آتے ہیں۔قاضی اسلم صاحب بھی مشورہ کے لئے آتے ہیں۔اس سال چوہدری مشتاق احمد صاحب بھی اپنے مضمون کے متعلق مشورہ لینے آئے لیکن جب میری بیوی نے کہا مجھے فلاں مضمون کے متعلق کچھ نوٹ لکھوا دیں تو میں نے اُسے کہا کہ میں اس مضمون کے متعلق نوٹ نہیں لکھواؤں گا کیونکہ تم نے انتخاب غلط کیا ہے۔میں نے کہا مضمون تو بڑا اچھا ہے اگر میں یہ مضمون لوں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میں وہ وہ مطالب بیان کروں کہ سُننے والوں کی آنکھیں گھل جائیں لیکن تمہیں ابتدائی مشق ہے تمہیں وہ مضمون لینا چاہئے