انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 153

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۵۳ " نامحرم مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط اسلام نے کیوں منع قرار دیا ہے۔“ بعد میں تو اور لوگوں نے بھی شکایت کی ہے لیکن جس شخص نے اس چیز کا مجھ سے پہلے ذکر کیا اُس نے مجھے بتایا کہ اصل مضمون کا کوئی پہلو بھی تقریر میں بیان نہیں کیا گیا بلکہ بعض با تیں اس میں ایسی کہی گئی ہیں جو قطعی طور پر نامناسب تھیں۔اس تقریر کے دوران میں لاؤڈ سپیکر کا کنکشن چونکہ عورتوں کی طرف دیا گیا تھا اس لئے وہ باتیں نہیں کہنی چاہئے تھیں گو میرے خیال میں تو وہ باتیں مردوں میں بھی نہیں کہنی چاہئے تھیں مگر شکایت کرنے والے نے کہا ہے کہ چونکہ تقریر عورتوں کی طرف بھی سنی جارہی تھی اس لئے ایسی باتیں انہیں نہیں کہنی چاہئے تھیں لیکن جب اس دوست نے شکایت کی تو میں نے کہا اس میں مولوی صاحب کا کوئی قصور نہیں کیونکہ اُن کی پچھلی تقریریں جیسا کہ میں نے سُنا ہے اچھی ہوتی رہی ہیں اور مجھے بیرون جات سے خطوط آتے رہے ہیں کہ ان کی تقریروں کو جلد شائع کیا جائے۔پھر حاضری کی جو رپورٹیں ملتی رہی ہیں اُن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ حاضری انہی کی تقریر کے وقت میں تھی یہ بات بتاتی ہے کہ لوگوں کے ذہنوں پر پچھلی روایات کا اثر تھا کہ ان کی تقریر عموماً کامیاب ہوا کرتی ہیں۔جس طرح بعض لوگ میلوں میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح ہماری جماعت کے بعض افراد کو بھی جلسہ چھوڑ کر بازار وغیرہ میں پھرنے کی عادت ہے لیکن مولوی عبدالغفور صاحب کی تقریر کے دوران میں اکثر لوگ دُکانیں چھوڑ کر جلسہ گاہ میں آگئے تھے اُن کی یہ قربانی بتاتی ہے کہ اُن پر اس بات کا اثر تھا کہ مولوی صاحب کی پچھلی تقریریں کامیاب رہی ہیں ورنہ وہ کوئی پُرانے لیڈر تو ہیں نہیں کہ ان کی تقریر سننے کے لئے لوگ اپنی عادت کی بھی پرواہ نہ کریں اور جلسہ گاہ میں جمع ہو جائیں۔غرض میں نے شکایت کرنے والے کو بتایا کہ اس میں مولوی عبدالغفور صاحب کا کوئی قصور نہیں قصور آپ کے بھائی سید ولی اللہ شاہ صاحب کا ہے۔اُنہوں نے کہا اس میں سید ولی اللہ شاہ صاحب کا کیا قصور ہے؟ میں نے کہا یہ کہ انہوں نے اس مضمون کے لئے صحیح انتخاب نہیں کیا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص نسخہ لکھوانے کے لئے وکیل کے پاس جائے یا مقدمہ کا مشورہ کرنے کے لئے انجینئر کے پاس جائے۔