انوارالعلوم (جلد 22) — Page 152
انوار العلوم جلد ۲۲ میرے ذمہ لگایا ہے۔غالب کہتا ہے ؎ ۱۵۲ گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے متفرق امور اگر غالب اپنے ساغر و مینا کوموت کی آخری گھڑیوں سے پہلے اپنے سامنے سے اُٹھنے نہیں دیتا تو میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم کام کے لئے مقرر ہوں جب تک میری زبان میں جنبش ہے خدا تعالیٰ کے کلام کو لوگوں تک پہنچانے میں کس طرح دریغ کر سکتا ہوں۔میں نے باوجود کمزوری کے اس سال یہ ارادہ کیا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو کل کسی علمی موضوع پر تقریر کروں۔۱۹۴۵ ء سے برا بر دوسرے دن کی علمی تقریر نہیں ہو رہی (سوائے مارچ ۱۹۴۸ ء کے جلسہ کے جو لاہور میں ہوا تھا )۔۱۹۴۵ ء میں میں سخت بیمار ہو گیا تھا۔۱۹۴۶ء پر بارش ہو گئی اور دوسرے دن کی تقریر نہ ہوسکی۔۱۹۴۷ء میں ہمیں قادیان سے نکلنا پڑا اور ۱۹۴۸ء میں یہ جلسہ ایک عارضی رنگ میں ہوا۔۱۹۴۹ء میں ہم قریب ترین عرصہ میں یہاں آئے تھے اور مجھے اتنی فرصت نہیں تھی کہ اس طرف توجہ کرتا۔اب بھی بوجہ بیماری کے اتنی طاقت تو نہیں کہ میں کوئی لمبی تقریر کر سکوں لیکن میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ایک کام جو ادھورا پڑا ہے اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو میں اسے مکمل کر سکوں تو وہ آئندہ نسلوں کی تربیت کے کام آئے گا اور اس سے فائدہ اُٹھانے والوں کی دُعائیں مجھے ملتی رہیں گی۔چنانچہ میں نے اس سال سے ارادہ کیا ہے کہ دوسرے دن کی تقریر کسی علمی موضوع پر ہوا کرے اور اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو کل انشاء اللہ میں کسی علمی موضوع پر تقریر کروں۔آج میں حسب عادت متفرق امور کے متعلق کچھ کہوں گا مگر اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے کل کی ایک تقریر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔مجھے یہ شکایت پہنچی ہے کہ کل ایک ایسی تقریر ہوئی ہے جو مقررہ موضوع سے الگ تھلگ تھی۔اس میں بعض باتیں ایسی کہی گئی ہیں جو نا مناسب تھیں یہ تقریر مولوی عبدالغفور صاحب کی تھی جس کا عنوان تھا: