انوارالعلوم (جلد 22) — Page 145
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۴۵ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو یہاں دس ہزار احمدی ہیں اور احمدی بھی اچھے تعلیم یافتہ ہیں۔گویا صرف تعداد کے لحاظ سے وہ زیادہ نہیں بلکہ رسوخ کے لحاظ سے بھی زیادہ ہیں۔انڈونیشیا کے کئی وزراء ایسے ہیں جن کی رشتہ داریاں احمدیوں کے ساتھ ہیں اور کئی احمدی بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔چنانچہ انڈونیشیا نڈونیشیا کی آزادی کے بعد ان کی طرف سے جو سفیر پاکستان میں مقرر ہو کر آیا اُس کا سیکرٹری ایک احمدی اور قادیان کا تعلیم یافتہ ہے اور سیکرٹری کی حیثیت ایک کمشنر کی سی ہوتی ہے۔اسی طرح ایک پہلا سیکرٹری جو بیمار ہو کر واپس چلا گیا وہ بھی احمدی تھا۔پس میں نے عورتوں کو یہ خوشی کا موقع دینا چاہا کہ وہ اپنے چندہ سے ایسی جگہ مسجد بنائیں جس کا اثر سب سے زیادہ انڈونیشا پر پڑے گا۔ڈچ لوگوں میں جتنی بھی احمدیت پھیلے گی انڈونیشیا پر اس کا رد عمل ضرور پیدا ہو گا۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اہمیت کو عورتوں نے سمجھا نہیں۔تمیں ہزار روپیہ تو صرف زمین پر خرچ ہو چُکا ہے اور اسی ہزار روپیہ کا عمارت کے لیے اندازہ ہے اور ایسی جگہ جہاں بڑے بڑے امراء پائے جاتے ہیں اور جہاں ہمارے ملک کے مقابلے میں نہایت گراں مزدوریاں ہیں۔عمارت پر اسی ہزار روپیہ کا خرچ کوئی بڑی چیز نہیں۔کراچی میں ابھی حال ہی میں وہاں کی جماعت نے مسجد بنائی ہے جس پر ان کا ایک لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے اور ہالینڈ کا دارالخلافہ ہیگ تو کراچی سے بہت گراں ہے اور پھر یورپ میں مزدوریاں بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں پس وہاں کے اتنی ہزار کے معنے درحقیت چالیس ہزار ہی کے ہیں۔میں نے آج سے اٹھائیس سال پہلے جرمنی کی مسجد کے لئے عورتوں کو تحریک کی تھی۔اُس وقت احمدی عورتیں موجودہ تعداد سے دس حصہ کم تھیں اب تو اٹھائیس سال میں ہم بہت زیادہ بڑھ گئے اور ہماری حیثیتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آجکل دو تین شہروں مثلاً کراچی اور لا ہور وغیرہ کو ملا کر ہماری جتنی آمدنی ہے اتنی آمدنی پہلے ساری جماعت کی نہیں تھی۔مگر اُس وقت عورتوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور میرے اعلان پر ایک مہینہ کے اندر اندر انہوں نے اتنی ہزار روپیہ جمع کر دیا۔مگر بعد میں جرمنی حکومت نے چونکہ ایسی پابندیاں لگا ہیں