انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 141

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۴۱ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو ان کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جائے تا کہ ہماری جماعت میں زیادہ سے زیادہ عورتیں بی ، اے اور ایم ، اے ہوں۔تا کہ انہی میں سے وہ ہوں جو دینی خدمات کے لئے وقف ہوں ، انہی میں سے وہ ہوں جو ڈاکٹری وغیرہ کا پیشہ اختیار کرنے والی ہوں اور انہی میں سے وہ ہوں جو اپنے گھر بار کا کام کریں اور اپنے خاندان اور علاقہ کی تعلیم کا انتظام کریں۔اس سال سے ایف اے کی جماعت شروع کر دی جائے گی۔اگلے سال تک کورس اور پروفیسروں کے انتظام کے ساتھ انشاء اللہ دوسری جماعت ایف ، اے کی اور پہلی جماعت بی اے کی شروع کر دی جائے گی اور تیسرے سال کے شروع میں سارے بی اے کی جماعت کھول دی جائے گی اور اگر خدا تعالیٰ پر و فیسر مہیا کر دے تو ایم اے کی کلاسز بھی کھل جائیں گی۔پس ایک تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لئے ہم نے کالج کھولنے کا ارادہ کیا ہے اس کے ساتھ بورڈنگ بھی ہوگا۔جنہوں نے اپنی لڑکیوں کو کالج میں تعلیم دلانی ہو جیسا کہ لجنہ کی طرف سے بار بار اعلان ہو رہا ہے وہ اطلاع دیں یہاں رہنے والی لڑکیوں کو اپنے گھروں میں ہی رکھیں گے مگر جن کا یہاں کوئی رشتہ دار نہیں ان کے لئے ایک چھوٹا سا بورڈ نگ بنا دیا جائے گا اور وہ اُس میں رہیں گی۔اس ذریعہ سے انشاء اللہ عورتیں بہت جلد اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں گی اور ہمارا علمی معیار بہت اونچا ہو جائے گا۔ایک کالج آسانی کے ساتھ ایک سو شاگرد ایک جماعت میں لے سکتا ہے۔اگر ہر سال ایک سو بی، اے یا ایک سو ایم ، اے عورتیں ہمارے کالج سے نکلنا شروع ہو جائیں تو دس سال کے اندر اندر سارے مغربی پنجاب کی تعلیم اور سارے مغربی پنجاب کی عقلی اور ذہنی ترقی کا معیار بہت بلند ہو سکتا ہے اور نسبت کے لحاظ سے ہماری تعلیم بہ بڑھ جائے گی۔دوسری لڑکیوں کا بہت سا وقت مشاعروں میں یا پارٹیوں میں یا سینماؤں میں ضائع چلا جاتا ہے۔مگر ہمارے کالج کی لڑکیاں ان باتوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گی اور وہ بہت جلد علمی ترقی حاصل کر لیں گی۔لڑکوں کی تعلیم میں بھی ہم نے یہی دیکھا ہے چونکہ احمدی لڑکے محنت زیادہ کرتے اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچاتے