انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 113

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۱۳ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر سے بھی فرماتے ہیں کہ تم اپنی عبادت ہماری مسجد میں ہی کر لو لیکن یہ لوگ مسلمانوں کو بھی مسجد میں عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں۔اب یہ حدیث میری بنائی ہوئی نہیں۔میں تو اُس وقت موجود ہی نہیں تھا جب بخاری اور مسلم لکھی گئی تھیں بلکہ انہیں تو پتہ بھی نہ تھا کہ میں کسی زمانہ میں پیدا ہوں گا۔جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند شدید معاندین کے متعلق ہے احکام نافذ فرمائے کہ وہ جہاں کہیں ملیں قتل کر دیئے جائیں ان لوگوں میں ایک عکرمہ بھی تھے جو ابو جہل کے بیٹے تھے وہ ڈر کے مارے مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے ایسے سینیا جانے کا ارادہ کر لیا۔یہ دیکھ کر عکرمہ کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا کہ یا رسُول اللہ ! آپ میرے خاوند کو قتل کرنے کے احکام واپس لے لیں اور اُسے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے مکہ میں رہنے کی اجازت عطا فرما دیں۔آپ نے فرمایا۔اچھا اگر وہ یہاں آ جائے تو ہم اسے صرف معاف ہی نہیں کریں گے بلکہ اُس کے مذہب میں مداخلت بھی نہیں کریں گے۔یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا۔مگر ہمارے مخالف کہتے تو یہ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا اور سردار ہیں لیکن جو کام یہ لوگ کرتے ہیں وہ آپ کے رویہ کے خلاف ہیں۔اگر یہ سب لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والے کام کرنے لگ جائیں تو دشمن کس طرح اسلام سے باہر جاسکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا۔آپ نے اسے کھانا وغیرہ کھلایا اور رات کو وہ وہیں سو گیا لیکن جاتے ہوئے وہ بستر پر پاخانہ کر گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو فرمایا تم نے اپنے مہمان پر ظلم کیا کہ اسے پاخانہ کرنے کی جگہ نہ بتائی۔چونکہ اسے پاخانہ کرنے کی جگہ کا پتہ نہیں لگا اس لئے وہ بستر پر ہی پاخانہ پھر گیا۔اس کے بعد آپ نے ایک عورت کو بلایا اور اُسے فرمایا تم پانی ڈالتی جاؤ اور میں خود کپڑا دھوتا ہوں۔اُس عورت نے پانی ڈالتے ہوئے کہا کہ خدا تعالیٰ اس شخص کو غارت کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گالی مت دو پتہ نہیں اُسے کتنی تکلیف ہوئی