انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 109

انوار العلوم جلد ۲۲ 1+9 بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر ساتھیوں کی طرح آپ کو یہ نہیں کہیں گے کہ فاذهَبُ انْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إنَّا هُهُنا قاعدون ۱۸ کہ جاتو اور تیرا رب دشمن سے لڑتے پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یا رَسُول اللہ ! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ آئے۔پھر اس نے کہا یا رَسُول اللہ ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے۔یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے۔آپ ہمیں حکم دیں کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو تو ہم بلا دریغ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو اسلام میں داخل ہونے کے بعد صحابہ کے اندر پیدا ہو گیا۔پس حقیقت یہ ہے کہ لوگ احمدیت سے ناواقف ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے اُن پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اس تاریک زمانہ میں اُس نے اپنا ایک مامور بھیجا تا کہ وہ اسلام کو باقی ادیان پر غالب کر دے۔ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ مان لیا ہم قرآن کریم کے منکر ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں لیکن یہ تو بتاؤ کہ ہم نے امریکہ اور لنڈن میں مسجد میں بنائی ہیں کیا مسجد میں کا فر بناتے ہیں ؟ پھر یہ بتاؤ کہ دوسرے فرقوں کے نوجوان لہو و لعب میں اپنا وقت بسر کر رہے ہیں لیکن ہمارے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے محض خدا تعالیٰ کی خاطر باہر نکل گئے ہیں اور وہ کافروں کو مسلمان بنا رہے ہیں کیا یہ کام کا فر کرتے ہیں؟ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا صرف کافر کو ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ہے ، مومن کو آپ سے عشق نہیں ؟ میں نے ایک دفعہ مخالفین کو یہ دعوت دی تھی کہ تم بھی تبلیغ کی غرض سے باہر نکل کھڑے ہو اور ہم بھی تبلیغ کے لئے باہر نکل آتے ہیں پھر دیکھیں گے کہ کس کی کوشش کے نتیجہ میں اسلام پھیلتا ہے لیکن اس چیلنج کا جواب موصول نہیں ہو ا۔اگر ان کے پاس سچائی ہے تو وہ میدان میں کیوں نہیں آئے ؟ یہ سیدھی بات ہے کہ جو لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں اور عشق رسول کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی اسلام کی اشاعت کے لئے باہر نکل کھڑے ہوں، ہم بھی باہر نکلتے ہیں۔اگر ہم جھوٹے بھی ہوئے تب بھی اسلام کے لئے بہر حال یہ طریق