انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xiii

انتظام کیا جائے۔اسی طرح لجنہ کے دفاتر کا بھی حضور نے اعلان فرمایا۔جس میں لائبریری بھی ہوگی اور عورتیں اس سے بھی فائدہ اُٹھا سکیں گی۔(۱۰) متفرق امور حضرت مصلح موعود نے ۱۹۵۰ ء کے جلسہ سالانہ کے دوسرے دن مؤرخہ ۲۷ / دسمبر کو با و جو د علالت اور گلا کی خرابی کے بہت سے متفرق امور کی طرف توجہ دلائی اور جماعت پر مخالفین کی طرف سے الزامات کا ذکر کر کے بڑی تفصیل سے ان کے مؤثر جوابات دیے۔سب سے پہلے نظارت دعوۃ و تبلیغ کو توجہ دلائی کہ تقریر کے لئے موضوع دیتے وقت مناسب و موزوں آدمی کا چناؤ بھی ضروری ہے پھر حضور نے جلسہ سالانہ میں مہمانوں کی رہائش کو آسان بنانے کے لئے ایسے مخلصین کو اپنی اپنی زمینوں پر مکان بنانے کی تحریک فرمائی جن کی زمینیں ربوہ میں تھیں۔حضور نے سورۃ کہف کی تفسیر کو ہر گھر میں موجود رکھنے کی بھی تحریک فرمائی۔ہماری مخالفت میں جو جماعتیں سرگرم ہیں اُن میں احرار، اسلامی جماعت اور اسلام لیگ ہیں۔مجلس احرار نے ہم پر یہ الزام عائد کیا کہ ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے وفادار نہیں ہیں۔انہوں نے پہلے ہم پر انگریزی حکومت کے باغی ہونے کا الزام لگایا پھر کچھ سالوں کے بعد انگریزوں کا ایجنٹ ہونے اور خوشامدی ہونے کا الزام لگا دیا۔جبکہ یہ الزام غلط ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انگریزوں نے قائم کیا تھا تو چاہیے تھا کہ وہ آپ کو ایسی باتیں سیکھاتے جو اُن کی تائید کرنے والی ہو تیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔آپ نے تو بڑے بڑے پادریوں سے ٹکر لی آپ نے اُن کے خدا کو مار ڈالا۔پھر دوسری طرف اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انگریزوں نے ہی کھڑا کیا تھا تو پھر پادری صاحبان جو واقعہ عیسائیت کے ایجنٹ ہیں وہ ان کے دوست ہوتے جبکہ عملاً ایسا نہیں۔پادری صاحبان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کھل کر مخالفت کی جس میں پادری رلیا رام بھی تھا۔جس کے ہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب شائع ہوتی تھیں۔اس کے باوجود