انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page xii

صلى الله وہ اپنی مستیوں اور غفلتوں سے ہٹ کر دین کی محبت میں لگ جائیں اور رسول کریم ہے کی حکومت دنیا پر پھر سے قائم ہو جائے۔(۹) اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے اس کے مطابق اپنے فرائض ادا کرو جلسہ سالانہ ۱۹۵۰ء کے دوسرے دن مؤرخہ ۲۷ / دسمبر کو عورتوں کے پنڈال میں بنفس نفیس تشریف لے جا کر حضرت مصلح موعود نے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے قرونِ اولیٰ کی عورتوں کی قربانیوں ، اُن کی علمی ذہانت اور فراست کا ذکر کر کے عورتوں کو اُن کی ذمہ داریوں سے آگاہ فرمایا۔آپ نے فرعون کی بیوی کی مثال دی جس نے باوجود فرعون جیسے دشمن کے پاس رہتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت کی۔آپ نے حضرت مریم علیھا السلام کی مثال بھی دی کہ وہ ایک عورت ہی تھی جس نے اپنے بچے کی ایسی پرورش کی کہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا انسان بنا۔اسی طرح آپ نے حضرت خدیجہ ، حضرت عائشہ کی قربانیوں کا ذکر فرمایا اور ایک مشہور صوفی خاتون رابعہ بصری کا ذکر کر کے فرمایا کہ عورت اب ایک نمایاں حیثیت اختیار کر رہی ہے۔عورت اور مرد میں دماغ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں جو کچھ مرد سیکھ سکتا ہے وہ ایک عورت بھی سیکھ سکتی ہے۔اگر آپ میں سے ہر عورت نے کم از کم ایک عورت کو اسلامی نور سے منور کیا ہوتا تو احمدیت کتنی ترقی کر چکی ہوتی۔تعلیم دینا اور تبلیغ کرنا صرف مردوں کا کام نہیں بلکہ عورتوں کا بھی ہے۔جس طرح بھنور میں پھنسی کشتی دونوں طرف چپو چلانے سے ہی نکل سکتی ہے اسی طرح جماعت کی گاڑی چلانے کے لئے مرد اور عورتوں دونوں کو برابر کام کرنا ہوگا۔عورتوں کا علمی معیار بلند کرنے کے لئے حضور نے لجنہ اماءاللہ کو ایک کورس جاری کرنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا کہ خدام کی طرز پر پندرہ روزہ تربیتی کورس منعقد کر پھر اس سال زنانہ کالج قائم کر کے دینی علم کے ساتھ ساتھ دُنیوی علوم کی ترویج کا بھی