انوارالعلوم (جلد 22) — Page 103
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۰۳ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کو احادیث کی طرف لے ہی آئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو خودنمائی کا بڑا شوق تھا وہ اپنے شاگردوں کو بتا رہے تھے کہ مولوی نور الدین مرزا صاحب کا شاگرد ہے اور بہت بڑا طبیب ہے۔میں نے اُسے یوں رگیدا اور یوں لتاڑا اور آخر وہ احادیث کی طرف آہی گیا۔اتنے میں میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور اُنہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔آپ یونہی کام خراب کر دیتے ہیں۔مرزا صاحب تو سیدھے سادھے آدمی ہیں اور وہ قرآن کریم کو مانتے ہیں۔میں انہیں ابھی منوا آیا ہوں کہ اگر قرآن کریم میں سے ہم دس آیات بھی حیات مسیح کی نکال دیں تو وہ دہلی یا لاہور کی کسی مسجد میں وفات مسیح کے عقیدہ سے تو بہ کر لیں گے اور یہ دس آیات بھی میں نے ہی کہی ہیں ورنہ وہ تو کہتے تھے کہ تم حیات مسیح کی ایک ہی آیت قرآن کریم سے نکال دو۔آپ مولوی نور الدین صاحب سے جھگڑا کرنا چھوڑ دیں اور دس آیات حیات مسیح کی مجھے بتا دیں۔میں ابھی مرزا صاحب سے تو بہ کروا لیتا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی غصہ میں آکر کہنے لگے تمہیں کس نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتے۔میں مولوی نور الدین کو گھسیٹ کر حدیث کی طرف لایا ہوں اور تم پھر بحث کے لئے قرآن کریم کو بیچ میں لے آئے ہو۔میاں نظام الدین صاحب اس صدمہ میں چند منٹ تک بالکل خاموش بیٹھے رہے پھر کہنے لگے۔اچھا مولوی صاحب ! اگر یہ بات ہے تو پھر جدھر قرآن ہے اُدھر میں۔اور اس کے بعد قادیان جا کر اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔پس حقیقت یہی ہے کہ جو مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت رکھتا ہے اُس کے دل میں یہی ہے کہ جدھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اُدھر ہی میں ہوں۔تم جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ لوگ تمہیں دھوکا دیتے ہیں اور تم دھوکا میں آکر ہماری مخالفت کرتے ہو۔تم ان کے سامنے قرآن کریم رکھو اور کہو ہم پر کیا الزام رکھتے ہو۔قرآن کریم میں سب کچھ لکھا ہے اسے پڑھو اور پھر اس پر عمل کرو۔ان کے سامنے احادیث رکھو اور کہو کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ سب احادیث میں پہلے سے موجود ہے ہم نے اپنے پاس سے یہ عقیدہ نہیں