انوارالعلوم (جلد 22) — Page 102
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۰۲ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر سے کہا ہے کہ وہ قرآن کی تین سو آیات سے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ثابت کر کے دکھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تین سو آیات کی کیا ضرورت ہے اس کے لئے تو ایک آیت بھی کافی ہے۔میاں نظام الدین صاحب کو محبہ پڑا کہ شاید قرآن کریم میں حیات مسیح کے متعلق تین سو آیات نہ ہوں۔اس لئے انہوں نے کہا اچھا دوسو آیات سے ہی وہ حیات مسیح ثابت کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر فرمایا کہ اس کے لئے ایک آیت بھی کافی ہے دوسو کی ضرورت نہیں۔انہیں پھر مجبہ پڑا که شاید قرآن کریم میں حیات مسیح کو ثابت کرنے کے لئے دوسو آیات بھی نہ ہوں اس لئے انہوں نے کہا۔اچھا وہ ایک سو آیات سے حیات مسیح ثابت کریں۔آپ نے فرمایا نہیں اس کے لئے ایک آیت ہی کافی ہے۔پھر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح نیچے اتر تے گئے۔جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے لوط علیہ السلام کی بستی کے متعلق فرمایا تھا کہ خدایا! اگر اس میں اتنے لوگ مجھ پر یقین رکھنے والے ہوں تو کیا پھر بھی تو اسے تباہ کر دے گا۔تو خدا تعالیٰ نے کہا اگر اتنے لوگ ہوں تو میں انہیں ضرور معاف کر دوں گا۔اس سے آپ کو شبہ ہوا کہ شاید اس بستی میں اتنے مومن نہ ہوں۔اس لئے آپ آہستہ آہستہ نیچے اُترتے گئے یہاں تک کہ آپ دس تک آ گئے اور خدا تعالیٰ نے کہا ابراہیم! اگر اس میں دس مومن بھی ہوں تب بھی میں اس بستی کو تباہ نہیں کروں گا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہو ا کہ اس بستی میں دس مومن بھی نہیں تو آپ نے دُعا کرنی چھوڑ دی اسی طرح میاں نظام الدین صاحب بھی دس آیات پر آگئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔نہیں دس آیات کا کیا سوال ہے وہ ایک سے ہی حیات مسیح ثابت کر دیں تو وہ کہنے لگے آخر قرآن کریم میں حیات مسیح کو ثابت کرنے والی اتنی کم آیات تو نہیں ہوں گی۔بہر حال وہ خوشی خوشی لاہور پہنچے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی چینیاں والی مسجد میں بیٹھے تھے اور وہ دن وہ تھا جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے اُن کی یہ بات مان لی تھی کہ قرآن کریم کے علاوہ آر بخاری بھی پیش کر سکتے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بہت خوش تھے کہ وہ بالآخر