انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 101

انوار العلوم جلد ۲۲ 1+1 بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر چاہئے اور حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ قرآن سے بحث ہو۔آخر حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل نے تنگ آکر اتنی بات مان لی کہ اس بحث میں بخاری کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ایک دوست نظام الدین تھے انہیں حج کرنے کا بڑا شوق تھا۔انہوں نے دس حج کئے تھے۔وہ بمبئی تک پیدل جاتے اور آگے جہاز کے ذریعہ سفر کرتے۔انہوں نے براہین احمدیہ پڑھی ہوئی تھی اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دونوں سے عقیدت تھی۔جب لوگ یہ شور مچاتے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں قرآن کریم کی رو سے حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ مرزا صاحب قرآن وحدیث کے بلند پایہ عالم ہو کر اتنی بڑی غلطی کے کس طرح مرتکب ہوئے ہیں۔ایک دفعہ وہ حج کے لئے گئے تھے۔جب واپس کو ٹے تو کسی شخص نے اُن سے اِس بات کا ذکر کر دیا کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور یہ امر قرآن کریم سے ثابت ہے۔انہوں نے کہا مرزا صاحب میرے دوست ہیں میں جانتا ہوں کہ وہ بہت بڑے عالم ہیں اور قرآن وحدیث کے مسائل سے واقف ہیں، وہ ایسا نہیں کہہ سکتے۔وہ کہنے لگے یا تو مرزا صاحب نے یہ کہا نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے اور اگر کہا ہے تو میں اُن کے پاس جاؤں گا اور اُنہیں کہوں گا کہ وہ ایسا دعویٰ نہ کریں اور وہ مان لیں گے۔چنانچہ وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔میں حج پر گیا ہوا تھا جب واپس آیا تو میں نے یہ عجیب بات سنی کہ آپ نے فرمایا ہے حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہاں میں نے یہ بات کہی ہے۔انہوں نے کہا میں تو لوگوں سے کہہ آیا ہوں کہ میں مرزا صاحب سے کہوں گا کہ آپ یہ دعوی نہ کریں اور اگر وہ نہ مانے تو میں کہوں گا کہ اگر یہ امر قرآن کریم سے ثابت نہ ہو سکے تو آپ لاہور یا دہلی کی کسی مسجد میں تو بہ کا اعلان کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہاں اگر یہ امر قرآن کریم سے ثابت نہ ہوا تو میں ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں۔اُنہوں نے کہا اچھا میری تسلی ہو گئی ہے۔میں نے مولویوں