انوارالعلوم (جلد 22) — Page 100
انوار العلوم جلد ۲۲ 1۔0 بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر کھائے تو مجھے بواسیر ہوگئی۔میں سمجھتا تھا کہ یہ بہت اچھی چیز ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ یہ بڑی ناقص چیز ہے۔اب ہر چیز میں بُرائیاں بھی ہوتی ہیں اور خوبیاں بھی۔سنکھیا کو دیکھ لو سنکھیا مارتا بھی ہے اور زندہ بھی کرتا ہے۔اسی طرح دوسری چیزوں کا حال ہے۔لیکن جب راجہ نے کہا کہ میں نے بینگن کھائے تو مجھے تکلیف ہو گئی یہ بہت ناقص سبزی ہے تو وہی درباری اُٹھا اور اُس نے کہا۔ہاں ہاں حضور ! یہ بڑی ناقص چیز ہے اس میں یہ یہ بُرائیاں ہیں اور پھر یہ بیل پر لٹکا ہو ابا لکل یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کا منہ کا لا کر کے اُسے سولی پر لٹکا دیا جائے۔لوگوں نے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ اگلے دن تو تو نے بینگن کی اتنی تعریف کی تھی کہ حد نہ رہی اور آج اتنی مذمت کی کہ گویا اس جیسی خراب چیز دنیا میں کوئی نہیں۔اُس نے کہا میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں۔اسی طرح میں کہتا ہوں۔اے بھائیو! تمہیں اس سے کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے یا نہیں ؟ تم تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آج تم یہ اعتراض کرتے ہو کہ آپ حدیث اور سنت کے خلاف جاتے ہیں حالانکہ آپ حدیث وسنت سے اپنے دعوی کے ثبوت میں دلائل دیتے تھے۔پھر آپ حنفیوں میں پیدا ہوئے اس طرح آپ ان کے عقیدوں سے واقف تھے۔اُن دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑے سمجھے جاتے تھے۔وہ اعتراض کرتے وقت کہتے تھے کہ قرآن کریم میں یہ لکھا ہے ، حدیث میں یہ لکھا ہے ، سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن و حدیث سے ہی ان اعتراضات کے جوابات دیتے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاوّل ایک دفعہ اتفاق سے قادیان آئے اور کسی کام کے لئے لاہور ٹھہر گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لا ہور آئے ہوئے تھے۔اُنہوں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرب ہیں ان سے مباحثہ ہو جائے۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے اشتہار بازی شروع کر دی۔حضرت مولوی صاحب کی دو ماہ کی رُخصت تھی اور وہ لاہور میں ہی ختم ہوگئی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کہتے تھے کہ احادیث سے حیات و وفات مسیح پر بحث ہونی