انوارالعلوم (جلد 22) — Page 93
انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۳ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر مرنے لگا تو اُس نے کہا میرے سر سے لے کر پاؤں تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تلوار کا نشان نہ ہو۔یہ وہی خالد تھا جس نے اسلامی لشکر کو پسپا کر دیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کر دیا تھا۔دوسرا جرنیل جس نے خالد کے ساتھ مل کر مسلمان لشکر پر حملہ کیا وہ عمر و بن العاص تھا جس نے بعد میں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مصر فتح کیا لیکن جنگِ اُحد کے وقت یہی دونوں تھے جنہوں نے صحابہ کو زخمی کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینک دیا اور آپ کو بھی زخمی کر دیا۔حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرو آپ سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے جو لوگ حدیث سے واقف نہیں وہ عبداللہ بن عمر وا ور عبد اللہ بن عمر میں فرق نہیں کرتے۔در حقیقت یہ دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرو سے بہت سی روایات مروی ہیں۔حضرت عمرو بن العاص جب فوت ہونے لگے تو آپ رو ر ہے تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا۔باپ! کیا آپ اب بھی روتے ہیں؟ اگر آپ کفر کی حالت میں مرتے تب تو کوئی بات تھی خدا تعالیٰ نے آپ کو اسلام نصیب کیا ہے اب تو آپ کے لئے بشارت ہی بشارت ہے۔حضرت عمرو بن العاص نے کہا۔بیٹا تمہیں معلوم نہیں۔اسلام کے ساتھ میری دو کیفیتیں رہی ہیں۔جب تک میں مسلمان نہیں ہو ا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے اتنا بغض اور اسلام کے ساتھ مجھے اتنی دشمنی تھی کہ میں نے کبھی آنکھ اُٹھا کر آپ کی شکل تک نہیں دیکھی۔اگر میں اُس وقت مرتا اور کوئی شخص مُجھ سے یہ پوچھتا کہ آپ کی شکل کیسی تھی تو میں آپ کی شکل نہ بتا سکتا۔پھر جب اسلام لایا تو مجھے آپ سے اتنا عشق پیدا ہوا اور میرے اندر آپ کی اس قدر محبت جاگزیں ہوئی کہ میں آپ کے رُعب کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتا تھا اور اگر اب مجھ سے کوئی پوچھے کہ آپ کی شکل کیسی تھی تو میں نہیں بتا سکتا۔کفر کی حالت میں بغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہ دیکھی اور اسلام کی حالت میں محبت اور عشق کی وجہ سے آپ کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں میں اگر فوت ہو جاتا تو کوئی فکر نہ تھا لیکن آپ کی وفات کے بعد کئی غلطیاں مجھ سے سرزد ہوگئی ہیں۔میں نہیں