انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 92

انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۲ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر آپ کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی انہیں پانی پینے کے لئے کہا گیا۔جب وہ پانی پینے لگے تو ان کی نظر اپنی داہنی طرف پڑی۔آپ نے دیکھا کہ حضرت فضل رضی اللہ عنہ (حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بھائی ) شدت پیاس کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں۔آپ نے اُن کی طرف اشارہ کیا اور کہا۔پہلے انہیں پانی دو۔جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں نے اپنے پہلو میں ایک اور زخمی دیکھا جو شدت پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔انہوں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ پہلے اسے پانی پلاؤ۔دس آدمی زخمی پڑے ہوئے تھے۔ان دسوں کے پاس جب آدمی چھا گل لے کر گیا تو انہوں نے دوسرے کی طرف بھیج دیا تا کہ اُسے پہلے پانی پلایا جائے۔جب وہ آدمی دسویں کے پاس پانی لے کر گیا تو وہ مر چکا تھا۔نویں کے پاس گیا تو وہ بھی مر چکا تھا۔آٹھویں کے پاس گیا تو وہ بھی مر چکا تھا۔اسی طرح وہ ہر ایک کے پاس سے ہوتا ہو ادوبارہ مکرمہ کے پاس گیا تو وہ بھی مر چکے تھے۔اب دیکھو۔گجا یہ کہ ابو جہل کی دشمنی کی یہ حالت تھی کہ اس نے انتہائی مخالفت کی۔اور گجا یہ کہ جب اس کے بیٹے عکرمہ کو پتہ لگ گیا کہ اس کے باپ نے غلطی کی تھی تو وہی عکرمہ جو اپنی ذاتی عزت اور وجاہت کی خاطر اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا ہو ا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائیاں کیا کرتا تھا، اُس نے اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اس طرح قربان کیا کہ اس کی نظیر کم ملتی ہے۔رض خالد بن ولید کو دیکھ لو مسلمان ان کا نام لیتے تھکتے نہیں لیکن وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشد ترین دشمن تھا۔عمرو بن العاص کی بھی مسلمان تعریف کرتے ہیں کہ وہ بہترین جرنیل تھے لیکن وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشد ترین دشمن تھے۔ان کو دیکھو اور ان کی اولا دوں کو دیکھو۔اُحد کے واقعات کو دیکھو۔وہ شخص جس کی وجہ سے فتح مبدل بہ شکست ہو گئی تھی وہ خالد بن ولید ہی تھا۔وہ حملہ جس کی وجہ سے مسلمان لشکر میں گہرام مچ گیا تھا ، وہ خالد بن ولید کا ہی کیا ہو ا تھا۔اور خالد رضی اللہ عنہ ہی ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سَیفٌ مِنْ سُيُوفِ الله اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے وہی خالد ا سلام کی لڑائیوں میں اتنا د زخمی ہؤا کہ جب وہ