انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 91

انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۱ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر تعداد بہت زیادہ ہے۔جب تک ہم اچانک حملہ کر کے انہیں خوفزدہ نہیں کریں گے یہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ۳۰ آدمی ساتھ لے کر کفار کے لشکر کے قلب پر حملہ کر دوں تا کہ وہ تر بتر ہو جائے۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا۔یہ بات خلاف عقل ہے کہ ۶۰ ہزار دشمن کے مقابلہ پر میں آدمی جائیں۔حضرت عکرمہ نے کہا۔آخر ہم مر ہی جائیں گے اور کیا ہو گا۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا میں اتنی بڑی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔حضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد بن ولید کو بلایا اور ان سے کہا۔عکرمہ یوں کہتا ہے۔خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔عکرمہ نے ٹھیک کہا ہے۔جب تک دشمن پر ہمارا رعب نہیں پڑے گا وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا۔اس کے یہ معنے ہوں گے کہ میں تھیں مسلمان مروا دوں۔خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔آخر آدمی مرا ہی کرتے ہیں۔تب حضرت ابو عبیدہ نے عکرمہ کی بات مان لی۔ہاں اتنا کر دیا کہ تمیں آدمیوں کی بجائے ساٹھ آدمی ان کے ساتھ کر دئے تا کہ دشمن کے ہر ہزار کے مقابلہ میں ایک مسلمان ہو جائے۔دوسرے دن ان ساٹھ افراد نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اُٹھائیں اور ساٹھ ہزار دشمن میں کھس گئے۔پہلی صف والے ابھی تلواریں ہی اُٹھاتے رہے کہ یہ آگے گزر گئے۔جب دوسری صف والے تلواریں اُٹھانے لگے تو یہ تیسری صف میں پہنچ چکے تھے۔دشمن فوج کا کمانڈ رجس سے قیصر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر اس نے مسلمانوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کی تو وہ اُسے اپنی لڑکی بیاہ دے گا وہ تخت پر بیٹھا ہو ا تھا۔یہ وہاں پہنچے۔اُس وقت تک لشکر کو بھی ہوش آچکی تھی۔یہ مرتے گئے لیکن پیچھے نہ ہٹے۔جب یہ عین اُسی جگہ پہنچے جہاں کمانڈر بیٹھا تھا تو وہ گھبرا کر بھاگ اُٹھا لیکن یہ ساٹھ کے ساٹھ یا تو زخمی ہو گئے یا مر گئے 2 اتنے میں جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے ساٹھ جانباز سپاہی لڑ رہے ہیں تو انہوں نے بھی دشمن پر حملہ کر دیا اور دشمن کو جب خبر پہنچی کہ ان کا کمانڈر بھاگ گیا ہے تو وہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔فتح کے بعد جب تلاش کیا گیا تو سوائے چند کے جو شدید زخمی تھے باقی سب مر چکے تھے۔گرمی کا موسم تھا شدت پیاس کی وجہ سے زخمیوں کی زبانیں باہر نکل رہی ہیں ، بعض سپاہی پانی کی کھپیاں لے کر وہاں پہنچے۔جب وہ حضرت عکرمہ کے پاس گئے تو