انوارالعلوم (جلد 22) — Page 89
انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۹ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر اور وہاں دھکے کھاتا پھرے یا یہ بہتر ہے کہ آپ اسے معاف کر دیں اور وہ آپ کے زیر سایہ زندگی بسر کرے؟ آپ نے فرمایا اچھا ہم اسے معاف کرتے ہیں وہ واپس آ جائے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔اس کی بیوی نے پھر عرض کیا یا رَسُول اللہ ! وہ بڑا غیرت مند شخص ہے اگر آپ یہ کہیں گے کہ وہ مسلمان ہو کر یہاں رہے تو وہ یہاں نہیں رہے گا۔ہاں اگر آپ اجازت دیں کہ وہ کافر ہوتے ہوئے بھی یہاں رہ سکتا ہے تو وہ واپس آ جائے گا۔آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم اسے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہیں گے وہ اپنے مذہب پر قائم رہ سکتا ہے۔عکرمہ کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد لے کر عکرمہ کی تلاش میں گئی عکرمہ حبشہ کی طرف بھاگا جارہا تھا وہ کشتی میں سوار ہونے کو تیار تھا کہ اُس کی بیوی وہاں پہنچی اور اُس نے خاوند سے کہا تم کہاں جارہے ہو یہاں اپنا بھائی حاکم ہے کیا یہ بہتر ہے کہ تم اس کے ماتحت رہو یا یہ بہتر ہے کہ تم غیر کی غلامی کرو؟ عکرمہ نے کہا کیا تجھے معلوم نہیں کہ مجھے قتل کر دینے کے احکام جاری ہو چکے ہیں ؟ اُس نے کہا تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں جانتے تمہارے سینہ میں کفر کی آگ بھڑک رہی ہے میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اُنہوں نے مجھ سے کہا ہے سچ کہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر عکرمہ مکہ واپس آ جائے تو میں اسے معاف کر دوں گا۔عکرمہ نے کہا اچھا انہوں نے اگر معاف بھی کر دیا تو وہ مجھے مسلمان ہونے کے لئے کہیں گے لیکن میں تو مسلمان نہیں ہوں گا۔بیوی نے کہا نہیں انہوں نے کہا ہے کہ وہ تمہیں مسلمان ہونے کے لئے بھی نہیں کہیں گے تم اپنے مذہب پر قائم رہ کر مکہ میں رہ سکتے ہو۔عکرمہ نے کہا کیا یہ سچ ہے؟ بیوی نے کہا ہاں یہ بالکل سچ ہے، میں نے خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لی ہے۔عکرمہ نے کہا اچھا میں چلتا ہوں لیکن میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے منہ سے یہ باتیں سنوں گا تب مانوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے تھے کہ عکرمہ کی بیوی اُسے ساتھ لئے حاضر ہوئی۔عکرمہ نے کہا محمد ! ( عکرمہ ابھی ایمان نہیں لایا تھا۔اور وہ آپ کو اسی نام سے پکارتا تھا ) میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے۔عکرمہ نے کہا میری بیوی نے ایک اور بات