انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 88

انوار العلوم جلد ۲۲ ٨٨ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر جواب نہ دیا اب میں تمہیں مارتا ہوں اگر تم بہادر ہو تو میری مارکا جواب دو 1 یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابو جہل گھبرا گیا اُس کے ساتھی جوش سے کھڑے ہوئے اور حضرت حمزہ کے ساتھ لڑنے کو اٹھے مگر ابو جہل پر صداقت کا اثر تھا وہ کہنے لگا جانے دو مجھ سے ہی صبح غلطی ہو گئی تھی۔حضرت حمزہ واپس آئے اور اُس مکان کا پتہ لے کر جہاں اُن دنوں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقیم تھے پہنچے اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں۔غرض ابوجہل کی دشمنی کا یہ حال تھا کہ وہ بلا وجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کیا کرتا تھا اگر یہ ہوتا کہ آپ تو حید کا وعظ کر رہے ہوتے تو ہم کہتے ابو جہل پاس سے گز را اور آپ کا وعظ سُن کر وہ غصہ میں آ گیا لیکن آپ خاموش پتھر پر بیٹھے کسی مسئلہ کے متعلق سوچ رہے تھے۔یہ ابو جہل کی مخالفت کی حالت تھی اُس کا بیٹا عکرمہ بھی اُس کے نقشِ قدم پر چلتا تھا اور وہ آپ کی دشمنی میں انتہا کو پہنچا ہوا تھا بیبیوں مسلمانوں کو اس نے مارا اور قتل کیا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت میں مکہ میں داخل ہوئے اور آپ نے چند افراد کو جو تعداد میں سات کے قریب تھے اور جنہوں نے مسلمانوں کو مارا اور انسانیت کے خلاف جرائم کئے تھے قتل کر دینے کا حکم دے دیا۔یورپ والوں نے بھی بعض لوگوں کو اسی مجرم کی بناء پر قتل کیا یا پھانسی پر لٹکایا ہے۔گزشتہ جنگ کے اختتام پر بھی جب بعض سر کردہ جرمن لیڈروں پر مقدمہ چلایا گیا تو یہ کہا گیا کہ اُنہیں جنگ کے بدلہ میں نہیں بلکہ انسانیت سوز جرائم کے بدلہ میں پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے جو ان سے سرزد ہوئے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فتح مکہ کے بعد ان سات اشخاص کے متعلق یہ احکام جاری کئے کہ انہیں قتل کر دیا جائے ان سات افراد میں عکرمہ بھی تھا۔اس کی بیوی دل سے مسلمان ہو چکی تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! میں دل سے مسلمان ہوں مگر میرا خاوند مکہ چھوڑ کر بھاگ گیا ہے وہ اسلام کا کتنا دُشمن ہی سہی لیکن پھر بھی آپ کا بھائی ہے کیا یہ بہتر ہے کہ وہ کسی اور ملک میں جا کر کسی غیر کے ماتحت رہے