انوارالعلوم (جلد 22) — Page xi
۶ نہایت محبت اور شفقت سے قرآن کریم اور بخاری کا ترجمہ پڑھایا کا مولد ومسکن ہے۔میں نے بھیرہ کی ایک بزرگ ہستی کی زبان سے قرآن کریم اور حدیث کا دودھ پیا ہے۔پس بھیرہ والوں کی نگاہ میں جو قدر بھیرہ شہر کی ہے میری نگاہ میں اس کی قدر بہت زیادہ ہے۔یہاں ہی کی ایک بیٹی امتہ الحئی جو حضرت مولانا نورالدین صاحب کی بیٹی تھی سے میری شادی ہوئی۔اُن سے باوجود وعدہ کے میں اُنہیں اُن کی زندگی میں یہاں نہ لا سکا۔اب اُن کو فوت ہوئے ۲۶ سال ہو گئے ہیں۔حضور نے اپنے اس معرکۃ الآراء خطاب میں اس امر کا بھی ذکر کیا کہ بعض لوگوں نے مجھے بھیرہ میں مخالفت کا ذکر کر کے دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔اس ضمن میں آپ نے اسلام کے دور اول میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شدید مخالفت کا ذکر فرمایا اور کہا کہ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ، ولید کے بیٹے خالد اور عمرو بن العاص کے بیٹے عبداللہ بن عمرو مسلمان ہوئے اور اسلام کے لئے انہوں نے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم فرمائی۔اس لئے آپ کو دُعاؤں کے ساتھ تبلیغ کا کام نہیں چھوڑ نا اور نرمی سے دلائل دیتے ہوئے جنگ جیتی ہے اور بتانا ہے کہ وہ تمام علامات جو قرآن و احادیث میں بیان ہوئی ہیں وہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے حق میں پوری ہوگئی ہیں۔(۸) ہم خدا تعالی کوکسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مؤرخہ ۲۶ دسمبر ۱۹۵۰ ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس سے ایک مختصر خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے انتظامیہ کو بعض ہدایات فرما ئیں۔نیز حاضرین جلسہ کو یہ بنیادی نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے خدا سے قریبی تعلق پیدا کریں۔آپ نے فرمایا کہ ہما را دشمن چاہتا ہے کہ ہم اپنے خدا سے تعلق تو ڈلیں لیکن ایسا نہیں ہوگا ہمارے جسم کی ایک ایک بوٹی بھی جُدا ہو جائے خواہ اس کے بدلہ میں ہماری جان و مال تباہ ہو جائیں لیکن ہم اپنے خدا کو نہیں چھوڑ سکتے بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ خدا کا چہرہ ہمارے مخالفین کو بھی نظر آئے اور اُن کے دلوں میں بھی رسول کریم ﷺ کی محبت پیدا ہو جائے تا