انوارالعلوم (جلد 22) — Page 69
۶۹ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب انوار العلوم جلد ۲۲ نمائندہ ہونے کی حیثیت سے آپ کو پڑھائیں۔اگر نمائندہ خدام اس بات کو سمجھ لیں اور انہیں اس کا یقین ہو جائے اور ساتھ ہی وہ اِس کو آگے پھیلانے کی کوشش کریں تا وہ اُس عہد کو تازہ کریں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی خاطر ہم سے لیا تو ہمیں بہت جلد کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔نص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عہد اپنی ذات کے لئے نہیں لیا تھا بلکہ آپ نے یہ عہد خدا تعالیٰ کی خاطر لیا تھا۔ہم اگر اس کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس لئے تا اس کی عہد کو جو آج سے چودہ سو سال قبل لیا گیا تھا دوبارہ زندہ کریں۔دوسروں کو یاد دلائیں اور کی اسے لوگوں میں قائم کرنے کی کوشش کریں۔اگر یہ بات پختہ ہو جائے تو ہم اس فرض کو ادا کریں گے جو ہمارے ذمہ لگایا گیا تھا۔ایک ماں جو قربانی کرسکتی ہے وہ ہر تھا جانتا ہے۔آپ میں سے وہ کون سا شخص ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا۔بیشک بعض لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنی ماں کا دودھ نہیں پیا ہوگا یا جنہوں نے ماں کی تربیت اپنی ہوش میں حاصل نہیں کی ہوگی لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں نوے فیصدی لوگ کی ایسے نکلیں گے جنہوں نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہوگا یا اُس کی نگرانی میں دودھ پیا ہوگا یا ای جنہوں نے بچپن میں تربیت اپنی ماں کی نگرانی میں حاصل کی ہوگی وہ جانتے ہیں کہ مائیں کتنی قربانی کرتی ہیں۔مائیں قربانی کرنے میں بعض دفعہ اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ انسان اندازہ نہیں کر سکتا۔وہ بسا اوقات یہ جانتے ہوئے کہ ان کی قربانی بچہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی قربانی پیش کر دیتی ہیں۔مثلاً سینکڑوں ہزاروں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک عورت جو پانی سے خوف کھاتی تھی جب اُس کا بچہ پانی میں گر گیا تو با وجود یہ جاننے کے کہ وہ تیر نا نہیں جانتی یا یہ جانتے ہوئے کہ وہ پانی میں کود کر بچہ کو بچا نہیں سکتی پانی میں چھلانگ لگا دیتی ہے اور وہ خیال نہیں کرتی کہ میں مرجاؤں گی۔یا کسی ماں کا بچہ چوری ہو گیا ہو اور وہ اتنی دیر کے بعد سے دیکھے کہ اسے پہچاننا مشکل ہو مثلاً وہ بچہ ڈا کو اُٹھا کر لے گئے ہوں اور انہوں نے اس کو ڈاکہ زنی کی تربیت دی ہو ، وہ چوری کیلئے باہر نکلے اور اپنی ماں کے ہاں چوری کرے، ماں نے پولیس