انوارالعلوم (جلد 22) — Page 555
انوار العلوم جلد ۲۲ سیر روحانی (۶) شرک کی مضرتوں پس چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو شرک کو مٹائے گا اور وہ بہت کچھ مٹے گا لیکن پھر دنیا کو محفوظ رکھنے کا حکم بھی کسی نہ کسی شکل میں وہ دنیا میں قائم رہے گا کیونکہ شرک ایک لازمی چیز ہے پھر اس کے لئے کیا کرنا چاہئے۔اس کے لئے فرماتا ہے تو شرک کو باندھ دے یعنی جب ایک ضرر نے موجود رہنا ہے اور خدا تعالیٰ نے دنیا کو ایسی شکل میں پیدا کیا ہے کہ گنہگار کے ساتھ شرک نے قائم رہنا ہے تو پھر مؤمنوں کو اُس کے ضرر سے کس طرح بچایا جائے۔اس کا طریق یہی ہے کہ جس چیز نے قائم رہنا ہو اس کے ضر ر کو کم کر دیا جاتا ہے مثلاً بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق ڈاکٹر کہتے ہیں انہوں نے ہٹنا نہیں۔ایسی بیماریوں کا علاج یہ ہوتا ہے کہ انہیں کسی دوا سے دبا دیا جاتا ہے مثلاً کھانسی آتی ہے تو او پیم دے دی بلغم دبا رہا۔شرک کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک بیشک مٹے گا مگر جو باقی رہے گا اسے اس طرح باندھ دو کہ وہ دوڑ کو دکر دنیا میں پھیل نہ سکے اور اس کی مضرت باقی نہ رہے۔ایک داعی الی الخیر جماعت اس کا طریق یہ بتایا کہ مؤمنوں کی جماعت اسلام میں قائم رہے جو شرک کے خلاف لوگوں کو کہتی رہے اور دلائل دیتی رہے تاکہ لوگ جب شرک کی طرف مائل ہونے لگیں تو انذار وتخویف اور حقیقت کے بیان کے ساتھ اور وعظ اور نصیحت کے ساتھ نیک طبیعتیں رُک جائیں جس طرح جانور کے پیر کو گردن سے باندھتے ہیں تو وہ دوڑ نہیں سکتا اسی طرح شرک دوڑنے کے قابل نہ رہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عن المنكر، وأولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۵۲ یعنی چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیکی اور تقویٰ اور اسلام کی طرف لوگوں کو بُلائے اور انہیں نیک باتوں کا حکم دے اور بُری باتوں سے رو کے واوليك هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور جس قوم میں یہ بات پائی جاتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے کیونکہ وہ شرارت کو دبائے رکھتی ہے بڑھنے