انوارالعلوم (جلد 22) — Page 543
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۳ سیر روحانی (۶) کوئی نبی ہے ہی نہیں جس نے یہ کام کیا ہو، انجیل لاؤ، توریت لا کر صح انبیاء لا ؤ، آپ کے مقابلہ میں کوئی نبی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔اسلام سے پہلے گندگی کو اسلام سے پہلے دین کے یہ معنے سمجھے جاتے تھے کہ گندے رہو۔عیسائی تاریخوں کو نکال کر دیکھ بزرگی کی علامت سمجھا جاتا تھا لومیں نے پڑھا ہے بعض پادری بڑے بزرگ سمجھے جاتے تھے اور ان کی بزرگی کی علامت یہ سمجھی جاتی تھی کہ چالیس سال سے انہوں نے غسل نہیں کیا اور ناخن اتنے بڑھے کہ کئی کئی انچ لمبے ناخن ہو گئے ، گویا ان کے ہاں بزرگوں کا نشان یہی سمجھا جاتا تھا۔مسلمانوں نے بھی کچھ کمی نہیں کی ، انہوں نے ایک زیارت گاہ بنائی ہوئی ہے کہتے ہیں کہ ایک بزرگ وہاں بیٹھے تھے چالیس سال تک انہوں نے سر نہیں اُٹھایا اور دیوار میں بیٹھے بیٹھے گڑھا پڑ گیا گویا پیشاب اور پاخانہ بھی پاجامہ میں ہی کرتے رہے۔اس میں عزت کیا ہے؟ آخر سوچنا چاہئے کہ جو شخص بیٹھا رہا اور ہلا نہیں اور وہیں اس کے جسم کا نشان پڑ گیا اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے نہ نماز پڑھی ، نہ روزہ رکھا ، نہ دین کا کوئی کام کیا، نہ کھانا کھایا ، نہ نہایا ، نہ پیشاب کیا، نہ پاخانہ کیا، مگر وہ تو ضروری ہے پھر یہی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ پیشاب، پاخانہ پاجامہ میں ہی کر ڈالتے ہونگے اور ان کا نام انہوں نے زیارت گاہ رکھا ہوا ہے۔ہندوؤں میں دیکھ لو ان میں بھی بزرگی کے یہی معنے سمجھے جاتے ہیں کہ فلاں شخص ایسا بزرگ ہے کہ کوئی اس کو پرواہ ہی نہیں۔جب سے پیدا ہوا ہے نہایا نہیں۔بدھ جی کے متعلق بتاتے ہیں کہ وہ اتنے بزرگ تھے کہ انہوں نے دیوار کے پاس بیٹھ کر عبادت کرنی شروع کی نیچے سے بانس کا درخت نکلا اور ان کے پیٹ میں سے ہوتے ہوئے سر میں سے پار نکل گیا مگر وہ ہلے ہی نہیں۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت دنیا میں آئے جب کہ ساری دنیا غلاظت کا پوٹلا بنی ہوئی تھی جب کہ مذہب اور روحانیت کے معنے یہ سمجھے جاتے تھے کہ انسان غلیظ اور گندہ ہو۔اس دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پیدا ہوتا ہے اور