انوارالعلوم (جلد 22) — Page 487
انوار العلوم جلد ۲۲ ظاہر ہو۔۴۸۷ چشمہ ہدایت جذبات صحیحہ بھی یہی کہتے ہیں کیونکہ جذبات صحیحہ ایک مفید تغیر کی ہمیشہ خواہش رکھتے ہیں اور یہ بات انسانی فطرت میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ اسی فطرت کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسم بدلتے ہیں اور نئے نئے پھل پیدا ہوتے ہیں اور انسان بھی کبھی اپنے لباس میں تغیر کرتا ہے اور کبھی مکان میں اور کبھی نئے نئے کھانے تیار کرتا ہے کیونکہ نئی چیز سے فطرت تسکین پاتی اور ایک لطیف حظ محسوس کرتی ہے۔تم تو شاید اسے بچوں والی بات کہو گے لیکن عاشق ہر بات کو اپنے عشق کے نقطۂ نگاہ سے دیکھتا ہے، حدیثوں میں آتا ہے جب بادل آتا، بوندیں برسنے لگتیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر صحن میں نکلتے اور اپنی زبان پر بارش کا قطرہ لیتے اور فرماتے یہ میرے رب کی تازہ نعمت کا مزہ ہے۔اس تمہارے لئے تین دن برابر بارش برستی رہے تب بھی تمہارے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے ایک تازہ قطرہ کو بھی دیکھتے تو اُسے اپنی زبان پر لیتے گویا قطرہ کیا آیا خدا تعالیٰ کی طرف سے پانی کا ایک ٹھنڈا اور شیر میں گلاس آ گیا۔یہ ہے سچا عشق اور اسی کی ہر مومن سے امید کی جاتی ہے۔وہ شخص عاشق ہی کسی طرح کہلا سکتا ہے جس میں یہ جذ بہ نہ ہو کہ میرا خدا میرے لئے نئی نئی قدرتیں ظاہر کرے۔ساتویں بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائی وہ یہ ہے کہ مذہب کی بنیا د ا خلاق پر ہے۔اسی زمانہ کے علمائے سوء غیر مسلموں سے بدسلو کی جائز سمجھتے ہیں ، وہ قتل مرتد کو ضروری سمجھتے ہیں، امن پسند غیر مسلم سے لڑنے کو ثواب سمجھتے ہیں، جو مسلمان کو غلام نہ بنائے اُسے بھی غلام بنانا جائز سمجھتے ہیں، جو اختلاف رکھتا ہو اُسے تنگ کرنا جائز سمجھتے ہیں اور دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی تحقیر جائز سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر یہ اصول پیش کیا کہ مذہب پر افراد سے زیادہ اخلاق کی پابندی ضروری ہے اس لئے غیر مسلموں سے بدسلو کی مت کرو۔اور آپ نے فرما یا جہاد کے معنے یہ ہیں کہ جب دشمن اسلام کو مٹانے کے لئے حملہ کرے تو اُس