انوارالعلوم (جلد 22) — Page 442
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۲ چشمہ ہدایت ہے اُن سے اتنا خرچ برداشت نہیں ہوسکتا کہ میزیں ہوں اور گر سیاں ہوں لیکن بڑے شہر مثلاً لا ہور ہے، کراچی ہے، ملتان ہے، پشاور ہے، راولپنڈی ہے، لائل پور ہے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں بنگال کو ملا کر کوئی ہمیں چھپیں ایسے شہر ہیں جن میں با قاعده احمدی لائبریریاں ہونی چاہئیں اور باقی جگہ ایسی لائبریریاں ہونی چاہئیں جو کتابیں تقسیم کرنے والی ہوتی ہیں۔گھر کی ایک الماری میں کتابیں رکھی ہوئی ہوں اور ایک صفحہ پر کتابوں کی لسٹ چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کر دی جائے کہ یہ ہماری لسٹ ہے جس نے کوئی کتاب پڑھنی ہو وہ بتا دے ہم اُس کے گھر پر پہنچادیں گے اور جب وہ کتاب پڑھ کر واپس کر دے تو پھر دوسروں کو دے دی جائے۔حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے ایک رکن عبدالستار صاحب نیازی پردہ پل اور اسلام نے اسمبلی میں پردہ بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہ ہوسکی۔اس پل کی غرض یہ تھی کہ جو عورتیں پردہ کی پابندی نہیں کرتیں انہیں قانونا مجرم سمجھا جائے اور سزا دی جائے۔( حضور نے اس پل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : - ) اس پل پر بہت لے دے ہوئی ہے۔ایک طبقہ کا یہ خیال ہے کہ جب اسلام نے پردہ کا حکم دیا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ضرور سزا ملنی چاہئے لیکن دوسرے طبقہ نے یہ کہا ہے کہ جب قرآن مجید نے بے پردگی کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کی تو ہماری طرف سے سزا تجویز کرنا شریعت میں دخل اندازی کے مترادف ہوگا۔دراصل اس مسئلہ کو ایک عجیب گورکھ دھندا بنا دیا گیا ہے۔اگر یہ سمجھا جائے کہ چونکہ پردہ ایک اسلامی حکم ہے اس لئے اس کی خلاف ورزی پر ضرور سزا ملنی چاہئے تو سوال یہ ہے کہ کیا دیگر اسلامی احکام کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے؟ قرآن مجید نے سُود سے منع کیا ہے لیکن پاکستان کے سارے محکمے سو د لیتے ہیں۔اسلام مساوات کی تعلیم دیتا ہے لیکن یہ مساوات پاکستان میں کہاں نظر آتی ہے اور اگر یہ دلیل مان لی جائے کہ جس معاملہ میں قرآن مجید نے کوئی سزا تجویز نہ کی ہو اُس میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے تو سوال یہ ہے کہ آج پاکستان