انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 432

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۲ چشمہ ہدایت لا پرواہی اور عدم توجہی اپنے علم کو زنگ لگانے کے مترادف ہے۔پس احباب کو الفضل کی خریداری بڑھانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) اب دوبارہ شائع ہونا شروع ہو گیا ہے اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کی لائبریریوں وغیرہ میں بھی بھجوایا جا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے دس ہزار کی تعداد میں شائع کرنے کی خواہش فرمائی تھی اور ہماری موجودہ طاقت اور تبلیغی ضرورت کے لحاظ سے تو دس ہزار کہتے ہوئے بھی ہمیں شرم آنی چاہئے کیونکہ اب تو اس سے بہت زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے۔احباب دو طرح سے اس کی اشاعت میں حصہ لے سکتے ہیں ایک تو اس کے خریدار بن کر اور دوسرے اسے موزوں غیر مسلم اصحاب یا لائبریریوں میں پہنچانے کے لئے چندہ دے کر۔ایک بات میں دوستوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر سال جو دُنیا میں آتا ہے وہ اپنے ساتھ کچھ نئی مشکلات لاتا ہے اور کچھ نئی آسانیاں بھی لاتا ہے۔جو قوم یا جو فرد بھی یہ خیال کر لیتا ہے کہ بس ہمارے او پر پچھلے پانچ یا سات سال سے جو کچھ گزرا تھا وہی گزرتا چلا جائے اُس سے زیادہ نادان اور غافل کوئی نہیں ہوسکتا۔یقینا ساری دُنیا بدلتی ہے، بدلتی چلی جائے گی اور جب دُنیا بدلتی ہے تو کونسا انسان ایسا ہو سکتا ہے جو ایک جگہ پر کھڑا رہے اور اُس کے لئے حالات نہ بدلیں۔ہر گھر میں دیکھ لو ہر سال میں کوئی مرجاتا ہے اور کوئی پیدا ہو جاتا ہے۔گویا ایک صورت ترقی کی ہو جاتی ہے اور ایک تنزل کی ہو جاتی ہے اور اس طرح لوگ بالعموم سموئے جاتے ہیں۔آہستہ آہستہ دُنیا کا قدم آگے نکلتا چلا جاتا ہے اور بعضوں کا آہستہ آہستہ نیچے گرنا شروع ہو جاتا ہے لیکن یہ دونوں باتیں ایک وقت میں لگی ضرور رہتی ہیں مگر جماعت کے دوستوں کو میں نے دیکھا ہے کہ قومی لحاظ سے انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس حالت سے ہم گزر رہے ہیں اُسی حالت میں ہم گزرتے چلے جائیں اور یہ ناممکن بات ہے۔اگر اسی حالت میں ہم گزرتے چلے جائیں تو یقیناً ہم پر ایک موت طاری ہو جائے گی۔در حقیقت انسان موت سے بچتا ہے حرکت کے ساتھ۔تمام قرآن کریم اسی سے بھرا ہوا ہے کہ کام کرنا اور عمل کرنا بس یہی انسان کی