انوارالعلوم (جلد 22) — Page 421
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۲۱ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۵۱ء ہمارا دشمن ہمارا دشمن ہی ہے اور ہمارا خدا ہما را خدا ہی ہے۔کتنا نادان ہے وہ انسان، کیسا بے وقوف اور کیسا احمق ہے جو خدا کی محبت کو انسانی دشمن کی عداوت سے حقیر سمجھتا ہو۔خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کا پیار تو اتنی قیمتی چیز ہے کہ انسان اس کے مقابلہ میں اگر وہ انسانی عداوت سے حاصل ہوتا ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کو نا پسند نہ کرے گا بلکہ تمنا کرے گا کہ وہ عداوت مجھے حاصل ہوتا کہ میرے خدا کی محبت میرے لئے اور زیادہ جوش مارے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُو دُشمن کے حملہ کی تمنا نہ کیا کرو۔آخر سوچنا چاہئے کہ اس فقرہ کے معنے کیا ہیں؟ کون دشمن کے حملہ کی تمنا کیا کرتا ہے اور اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے، جہاں تک مرنے کا تعلق ہے، جہاں تک تکالیف کا تعلق ہے کوئی شخص بھی دشمن کے حملہ کی تمنا نہیں کر سکتا مگر مسلمان ایسی حالت میں تھے کہ ان کے دل اسی نکتہ کے ماتحت جو میں نے بیان کیا ہے بعض دفعہ خواہش کر سکتے تھے کہ کاش! ہمارا دشمن ہم پر حملہ کرے تا کہ ہمارا خدا بھی ہماری مدد کے لئے آ جائے۔تو صرف اور صرف یہی وجہ ہو سکتی تھی کہ جس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ فرمایا یعنی اے مسلما نو ! جب دشمن تم پر حملہ کرتا ہے تو خدا تمہارے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور یہ بات تمہیں اتنی لذیذ معلوم ہوتی ہے اور تمہیں اس میں اتنا مزا آتا ہے کہ جب دشمن حملہ چھوڑ دیتا ہے تو تم کہتے ہو کاش ! ہمارا دشمن ہم پر پھر حملہ کرے تا ہمارا خدا پھر ہمارے پاس آ جائے۔یہ خواہش عشق تو ٹھیک ہے لیکن الہی حکمتوں اور الہی منشاء کے خلاف ہے اس لئے لَا تَتَمَنَّوُا لِقَاءَ الْعَدُقِ فرما کر بتایا کہ یہ ہے تو بڑی زبردست خواہش اور ہے تو عاشقانہ مطالبہ لیکن خدا تعالیٰ کی مدد کی خاطر اُس کے ادب کے لحاظ سے ایسی خواہش مت کیا کرو۔پس ہمارے لئے دُنیا میں کوئی ایسا حملہ، کوئی ایسی تحقیر ، کوئی ایسی تذلیل نہیں ہے جو کہ ہمیں اپنے کام سے پھر اسکے اور جو ہمیں مایوس کر سکے۔پس ہمارے احباب کو یہ امر مد نظر۔رکھنا چاہئے کہ در حقیقت سب سے محفوظ مقام ، سب سے عزت والا مقام ،سب سے مزے والا مقام اس وقت دنیا میں اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ آپ لوگوں کو ہی حاصل ہے۔دُنیا