انوارالعلوم (جلد 22) — Page 350
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۵۰ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو ہیں، کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اتنے بجے سونا ہے لیکن اگر کبھی ہنی میں میں نے اپنے بچوں سے کوئی وعدہ کیا ہو ا ہوتا ہے اور اُس پر پانچ سال بھی گزر چکے ہوں تو وہ ان کو نہیں بھولتا۔اس مثال سے اُن کے کریکٹر کا پتہ لگتا ہے کہ وقت پر سونا ، وقت پر سکول جانا ، وقت پر کپڑے بدلنا اور کھانے کے برتن دھونا یہ سب بچوں کو سکھایا جاتا ہے اور یہ باتیں ان کے فرائض میں شامل کی جاتی ہیں۔اس رنگ میں انہوں نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ ان کا بہت سا وقت بچ جاتا ہے۔پھر بچوں کے پالنے کا کام ایسا ہے جس میں بہت کچھ تبدیلی کی ضروت ہے۔یورپ میں تو عورتیں بچے کو پنگھوڑے میں ڈالتی ہیں چوسنی تیار کر کے اُس کے پاس رکھ دیتی ہیں اور مکان کو تالا لگا کر دفتر میں چلی جاتی ہیں۔جب بچے کو بھوک لگتی ہے تو وہ خود چُوسنی اُٹھا کرمنہ میں لگا لیتا ہے لیکن ہمارے ہاں اگر ماں دو منٹ کے لئے بھی بچے سے الگ ہو تو وہ اتنا شور مچاتا ہے کہ آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ماں بچے کو الگ نہیں کرتی اسے ہر وقت اپنے ساتھ چمٹائے پھرتی ہے۔بچہ پیدا ہوا اور اسے گود میں ڈال لیا اور پھر تین چار سال تک اسے گود میں اٹھائے پھرتی ہے بلکہ ہمارے ملک میں تو پانچ پانچ سال تک لاڈلے بچوں کو اُٹھائے پھرتی ہیں۔یہ سارے رواج اس قابل ہیں کہ ان کو بدلا جائے۔جب تم ہمت کر کے ان رسوم کو بدلو گی تو آہستہ آہستہ باقی عورتوں میں بھی تمہارے پیچھے چلنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ سب سے پہلے روٹی پکانے کے طریق میں تبدیلی کی ضروت ہے عربوں میں بھی بازار سے روٹی منگوانے کا طریق ہے مگر وہان تنور کی خمیری روٹی ہوتی ہے۔انگریزی روٹی کا رواج نہیں۔جتنے ملکوں میں بازار سے روٹی منگوانے کا طریق رائج ہے اُن سب میں خمیری روٹی کھائی جاتی ہے۔خمیری روٹی ہمیشہ تازہ ہی پکا کر کھانی پڑتی ہے۔بہر حال بغیر اس کے روٹی کا سوال حل ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں اور بغیر اس کے کہ بچہ پالنے کے طریق میں تبدیلی ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں۔جب تک بچہ گود میں رہے گاماں بے کار رہنے پر مجبور ہوگی یا بیٹی مجبور رہے گی۔کام کے