انوارالعلوم (جلد 22) — Page 351
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۵۱ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو لئے اُسے فراغت اُسی وقت ہو سکتی ہے جب بچہ کو پیدا ہوتے ہی پنگھوڑے میں ڈال دیا جائے اور پھر وقت پر اسے دودھ پلا دیا جائے گود میں اسے نہ اُٹھایا جائے۔غرض جب تک یہ سوال حل نہیں ہوتا ماں کی زندگی بیکار رہے گی۔اور جب تک کھانے کا سوال حل نہیں ہوتا عورت کی زندگی بیکا ر رہے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روزانہ چار وقت کے کھانے کی بجائے صرف دو وقت کا کھانا رکھ لیا جائے اور ناشتے کا کوئی سادہ دستور نکالا جائے اور کھانے ایسے تیار کئے جائیں جو کئی کئی وقت کام آسکیں اور روٹی بازار سے منگوالی جائے لیکن اگر صبح شام کھانا پکانے اور برتن مانجنے کا کام اگر عورت کے ہی سپر در ہے گا تو وہ بالکل بے کار ہو کر رہ جائے گی اور کسی کام کے لئے وقت صرف نہیں کرے گی۔پس جہاں دینی مسائل کو مد نظر رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے وہاں ان عائلی مشکلات کو حل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کے تنزل اور ان کے انحطاط کی بڑی وجہ یہی ہوئی کہ جب ان کے پاس دولت آگئی تو انہوں نے اس قسم کے مشاغل۔بے کاری کو اختیار کر لیا۔گھروں میں مرد بیٹھے چھالیہ کاٹ رہے ہیں، گلوریاں بنا رہے ہیں اور عورت بھی کھانے پکانے میں مصروف ہے کبھی یہ چیز لی جا رہی ہے، کبھی وہ چیز تلی جارہی ہے، کبھی کہتی ہے اب میں چٹنی بنالوں ، کبھی کہتی ہے اب میں میٹھا بنارہی ہوں۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تو کھانے تیار کرنے میں مشغول ہو گئے اور حکومت انگریزوں نے سنبھال لی۔یہ مصیبت جتنی ہندوستان میں ہے باہر نہیں۔عرب میں جا کر دیکھ لو سارا عرب بازار سے روٹی منگوا تا ہے۔مصر میں جا کر دیکھ لو سارا مصر بازار سے روٹی منگواتا ہے اور سالن بھی وہ گھر تیار نہیں کرتے بازار سے ہی منگوا لیتے ہیں۔وہاں لوبیا کی پھلیاں بڑی کثرت سے ہوتی ہیں صبح کے وقت مکہ میں چلے جاؤ ، قاہرہ میں چلے جاؤ بازاروں میں لوبیا کی دیکھیں تیار ہوں گی اور ہر شخص اپنا برتن لے جائے گا اور تندور کی روٹیاں اور لو بیا کی پھلیاں لے آئے گا۔غریب اسے یونہی کھا لیتے ہیں اور امیر آدمی گھی کا تڑکہ لگا لیتے ہیں۔اسی طرح دو پہر کے وقت روٹی بازار سے آتی ہے اور سالن کے طور پر وہ کوئی بھی سستی سی چیز لے