انوارالعلوم (جلد 22) — Page 329
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ( ۳۲۹ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو فرموده ۱۴ جون ۱۹۵۱ء برموقع افتتاح جامعه نصرت ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا: - زمانہ کے حالات بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدلتا چلا جاتا ہے یہ ایک عام قانون ہے جو دُنیا میں جاری ہے۔دریا چلتے ہیں اور پہاڑوں اور میدانوں کے نشیب وفراز کی وجہ سے ان کے بعض حصوں پر دباؤ پڑتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کچھ دور جا کر دریا کا رُخ بدل جاتا ہے۔بعض دفعہ دس دس ، پندرہ پندرہ ، ہمیں ہیں ، میں تھیں میل تک دریا رُخ بدلتے چلے جاتے ہیں۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ زمانہ بدل جاتا ہے۔یہ دونوں قسم کے نظارے ہمیں دُنیا میں نظر آتے ہیں۔کبھی زمانہ کے بدلنے سے انسان بدلتے ہیں اور کبھی انسانوں کے بدلنے سے زمانہ بدلتا ہے۔انسان کمزور ہوتا ہے تو زمانہ کے بدلنے سے وہ بدل جاتا ہے اور جب طاقتور ہوتا ہے تو اُس کے بدلنے سے زمانہ بدل جاتا ہے۔کمزور قو میں اپنی حاصل شدہ عظمت اور طاقت کو زمانہ کے حالات کے مطابق بدلتی چلی جاتی ہیں۔وہ اپنے ہمسایوں سے بد رسوم کو لیتی ہیں ، اپنے ہمسایوں سے بداخلاق کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے سستی اور جہالت کو لیتی ہیں ، اپنے ہمسایوں سے جھوٹ اور فریب کو لیتی ہیں ، اپنے ہمسایوں سے ظلم اور تعدی کو لیتی ہیں اور وہی قوم جو کسی وقت آسمان پر چاند اور ستاروں کی طرح چمک رہی ہوتی ہے نہایت ذلیل اور حقیر ہو کر رہ جاتی ہے۔تم اپنے ہی اسلاف کو دیکھو اگر تمہیں اپنے بناؤ اور سنگار سے فرصت ہو کہ تمہارے اسلاف کیا تھے اور اب تم کیا ہو۔مجھے بتایا گیا ہے کہ