انوارالعلوم (جلد 22) — Page 253
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵۳ سیر روحانی (۵) حق آ گیا جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے ایسی حکومت بھیج دی ہے جس کے مقابلہ میں کوئی اور حکومت ٹھہر ہی نہیں سکتی۔ایک شبہ کا ازالہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس دعوی کو کیا کریں؟ قرآن کریم کے مقابلہ میں اور کئی حکومتیں ٹھہری ہوئی ہیں، ہند و موجود ہیں ، عیسائی موجود ہیں، زرتشتی موجود ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں آج اسلام پر عمل کیا جاتا ہے یا ہندو اور عیسائی اور زرتشتی مذہب پر عمل کیا جاتا ہے؟ کیا اسلام کے سوا دنیا میں کوئی ایک مذہب بھی ایسا ہے جس کے پیرو اپنے مذہب پر عمل کر رہے ہوں؟ وہ کہتے یہی ہیں کہ ہم عیسائیت پر عمل کرتے ہیں یا ہندو مذہب پر عمل کرتے ہیں یا زرتشتی مذہب پر عمل کرتے ہیں لیکن شروع سے لے کر آخر تک وہ اسلامی تعلیم کو اپنا رہے ہیں۔ان کا عمل انجیل پر نہیں ، ان کا عمل ژنداو ستا پر نہیں ، ان کا عمل وید پر نہیں ، ان کا عمل اسلام پر ہے۔چنانچہ دیکھ لو عیسائیت کی تعلیم کی رو سے شراب پینا جائز ہے خود حضرت مسیح ناصری نے بھی انجیل کے مطابق ( گو ہم مسلمان اس کے قائل نہیں ) شراب کا معجزہ دکھایا مگر آج سارے یورپ میں ایسی سوسائٹیاں بنی ہوئی ہیں جو اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ شراب پینی بند کر دی جائے اور سارے یورپ کے ڈاکٹر شور مچا رہے ہیں کہ شراب ایک زہر ہے جس کا پینا انسانی جسم کے لئے مہلک ہے اس تمام جد و جہد میں کس مذہب کی فتح ہے؟ عیسائیت کی یا اسلام کی ؟ اسلام نے کہا جاء الحق حق آ گیا اب باطل اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا قرآن کریم نے شراب کو حرام قرار دیا تھا اب دنیا مجبور ہورہی ہے کہ شراب کو نا جائز قرار دے۔قرآن کریم کی پیش کردہ توحید کی فتح پھر جب قرآن کریم آیا اُس وقت دنیا کے چپے چپے پر لوگوں نے بت بٹھائے ہوئے تھے مگر آج دنیا کا تعلیم یافتہ انسان بُت کے آگے سر جُھکانے کے لئے تیار نہیں۔دنیا کے چپے چپے پر سے بُت اُٹھ گئے اور وہی تو حید دنیا میں قائم ہوگئی جو قرآن کریم نے پیش کی تھی۔اسی طرح اور ہزاروں امور میں تعلیمات اسلامیہ کے فائق