انوارالعلوم (جلد 22) — Page 254
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵۴ سیر روحانی (۵) ہونے کو پیش کیا جا سکتا ہے۔لوگوں نے ابھی ان حقائق کو نہیں مانا کیونکہ كَافَّةً لِلنَّاس کا اسلامی تعلیم پر برتری کو تسلیم کرنا مسیح موعود کے زمانہ کے ساتھ وابستہ تھا اور اب یہ کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے شروع ہو چکا ہے لیکن اس حقیقت سے کوئی سمجھدار انسان انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام نے ہر معاملہ میں جو تعلیم پیش کی ہے اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں کر سکتا۔قضاء کے بارہ میں انصاف اور قضاء کو ہی لے لو۔بادشاہ قاضی مقرر کرتے ہیں تو ان قاضیوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی خواہش اسلام کی شاندار تعلیم اور منشاء کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔آج بھی پاکستان میں یہ بحث شروع ہے کہ گورنر جنرل کسی قانون کے ماتحت آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا ؟ پاکستان کی دستور ساز کمیٹی نے جور پورٹ تیار کی ہے اور جسے رائے عامہ کے لئے مشتہر کیا گیا ہے اس میں ایک شق یہ رکھی گئی ہے کہ : - وو جب تک صد ر حکومت یا صدرصو بہ اپنے عہدہ پر فائز رہیں ، ان کے خلاف کسی قسم کی فوجداری نالش کسی عدالت میں دائر نہ ہونا چاہئے 66 اور نہ جاری رہنا چاہئے۔حالانکہ اسلامی تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر نائش ہوئی۔اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نالش ہوئی اور وہ عدالت میں پیش ہوئے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جن کو ہم معصوم سمجھتے ہیں بلکہ میرا یہ کہنا کہ ہم ان کو معصوم سمجھتے ہیں ایک بے وقوفی کا فقرہ ہے وہ معصوم تھا اور یقیناً تھا میرے سمجھنے یا نہ سمجھنے کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ انسان جس کو خدا تعالیٰ نے اپنا گورنر جنرل مقرر کر کے بھیجا، وہ انسان جسے اس نے اس دنیا میں خلیفہ اللہ بنا کر بھیجا اور ایسا خلیفہ اللہ بنا کر بھیجا ہے جس پر اس نے وہ کامل قانون نازل کیا جس کے متعلق وہ خود کہتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس قانون کی مثال تیار کرنے پر قادر نہیں ہو سکتی اور ایسا آئین نازل کیا جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اتنے بلند ترین مقام کا انسان اپنی وفات کے قریب صحابہ سے کہتا ہے کہ