انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 250

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵۰ سیر روحانی (۵) لئے تیار نہیں ہوتے کیونکہ انہوں نے نمبر داریاں سنبھالی ہوئی تھیں اور اعلیٰ اور بلند اخلاق کے عادی نہیں تھے۔وَلا يَحِيقُ المَكْرُ السّيّئ إلا بأهله، مگر ہمیں اس بارہ میں کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہیں بدی خود اُس کے سر پر پڑا کرتی ہے جو اس میں مبتلاء ہوتا ہے ہماری طاقت اس میں ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ باتیں بتائی ہیں جو نہایت اعلیٰ درجہ کی ہیں اور جنہیں ہر فطرتِ صحیحہ قبول کرتی ہے ان کے لئے نہ کسی فوج کی ضرورت ہے نہ دشمن سے لڑائی کی ضرورت ہے یہ لوگ آپ ہی تباہ و برباد ہو جائیں گے۔اسلام کی اشاعت اس کی اعلیٰ چنانچہ دیکھ لو اسلام نے تلوار کے زور سے فتح نہیں پائی بلکہ اسلام نے اس اعلیٰ تعلیم درجہ کی تعلیم کی وجہ سے ہوئی ہے کے ذریعہ صفت پائی ہے جو دلوں میں اتر جاتی تھی اور اخلاق میں ایک اعلیٰ درجہ کا تغیر پیدا کر دیتی تھی۔ایک صحابی کہتے ہیں میرے مسلمان ہونے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ میں اُس قوم میں مہمان ٹھہرا ہوا تھا جس نے غداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے ستر قاری شہید کر دئیے تھے جب انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو کچھ تو اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور کچھ ان کے مقابلہ میں کھڑے رہے۔چونکہ دشمن بہت بڑی تعداد میں تھا اور مسلمان بہت تھوڑے تھے اور وہ بھی نہتے اور بے سروسامان اس لئے انہوں نے ایک ایک کر کے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا۔آخر میں صرف ایک صحابی رہ گئے جو ہجرت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان کا نام عامر بن فہیر ہا تھا۔بہت سے لوگوں نے مل کر ان کو پکڑ لیا اور ایک شخص نے زور سے نیز ہ ان کے سینہ میں مارا۔نیزے کا لگنا تھا کہ اُن کی زبان سے بے اختیار یہ فقرہ نکلا کہ فُزَتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا تو میں حیران ہوا اور میں نے کہا یہ شخص اپنے رشتہ داروں سے دُور، اپنے بیوی بچوں سے دور، اتنی بڑی مصیبت میں مبتلاء ہوا اور نیزہ اِس کے سینہ میں مارا گیا مگر اس نے مرتے ہوئے اگر کچھ کہا تو