انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 251

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۵۱ سیر روحانی (۵) صرف یہ کہ " کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کیا یہ شخص پاگل تو نہیں؟ چنانچہ میں نے بعض اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے اور اس کے منہ سے ایسا فقرہ کیوں نکلا ؟ انہوں نے کہا تم نہیں جانتے یہ مسلمان لوگ واقعہ میں پاگل ہیں جب یہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کر لی۔میری طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں ان لوگوں کا مرکز جا کر دیکھوں گا اور خود ان لوگوں کے مذہب کا مطالعہ کروں گا۔چنانچہ میں مدینہ پہنچا اور مسلمان ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا کہ ایک شخص کے سینہ میں نیزہ مارا جاتا ہے اور وہ وطن سے کوسوں دور ہے ، اُس کا کوئی عزیز اور رشتہ دار اس کے پاس نہیں اور اس کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ فُزْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ اس کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ جب وہ یہ واقعہ سنایا کرتا اور فُزَتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ کے الفاظ پر پہنچتا تو اس واقعہ کی ہیبت کی وجہ سے یکدم اس کا جسم کانپنے لگ جاتا اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے اے تو اسلام اپنی خوبیوں کی وجہ سے پھیلا ہے زور سے نہیں۔مسلمانوں کی تمام جنگیں مدافعانہ تھیں اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ آسمان سے لشکر اُتریگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو کامیاب کریگا؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کو لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں مگر جتنی بھی لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں ابتداء کفار کی طرف سے ہوئی ہے۔کفار نے آپ حملہ کیا اور مسلمانوں کو ان کے دفاع کے لئے میدانِ جنگ میں اتر نا پڑا۔پس سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں نے جنگیں کی ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے یہ کہا تھا کہ اگر کفار کی طرف سے حملہ ہوا تب تم جیتو گے ورنہ نہیں ؟ اسلام نے تو یہ کہا تھا کہ میں خود جیتوں گا اور وہ اسی طرح جیتا کہ جو لوگ اسلامی تعلیم کا مطالعہ کرتے یا مسلمانوں کی قربانی کا نظارہ دیکھتے اُن کے دل مرعوب ہو جاتے اور وہ اسلامی تعلیم کے حُسن اور اس کی صداقت کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے۔