انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 217

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۱۷ سیر روحانی (۵) مسلمان ہی کے پاس زراعت تھی، مسلمان ہی کے پاس علم تھا، مسلمان ہی کے پاس یو نیورسٹیاں تھیں، مسلمان ہی کے پاس ہسپتال اور شفا خانے تھے اور مسلمان ہی کے پاس حکومت تھی مگر جس وقت میں تغلق کے قلعہ کی چوٹی پر کھڑا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا میں نے دیکھا کہ اب انگریز حاکم تھا، ہند و تمام محکموں پر قابض ، تجارت پارسیوں اور میواڑیوں کے ہاتھ میں تھی ، یونیورسٹیاں ہندوؤں اور انگریزوں کے ہاتھ میں تھیں اور مسلمان ہر جگہ دستر خوان کے گرے ہوئے ٹکڑوں کا محتاج تھا۔اگر کسی نے کچھ ڈال دیا تو ڈال دیا ورنہ اُس کا کسی چیز میں حق نہیں تھا۔گھروں میں بیٹھے ہوئے بھی یہ گزشتہ تاریخ انسان کے دل کو کپکپا دیتی ہے مگر تغلق کے قلعہ پر جو ایسی جگہ بنا ہو ا تھا جہاں ساری دتی پر نگاہ دوڑائی جا سکتی تھی ، یہ تاریخ تجسم کا رنگ اختیار کر کے میری آنکھوں کے سامنے آگئی۔میں نے سوچا اور غور کیا کہ جہاں قدم قدم پر اسلام کی شان بلند ہوتی تھی ، جہاں قدم قدم پر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے جاتے تھے، جہاں قدم قدم پر مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمین روندی جاتی تھی اور بڑی بڑی طاقتیں ان سے ٹکر کھانے سے گھبراتی تھیں آج مسلمان کس ذلت میں ہے، کس مصیبت اور کسمپرسی کی حالت میں ہے؟ یہ زخم تھا جو تغلق کے قلعہ پر مجھے لگا اور میں نے سوچا کہ کیا کوئی مرہم ایسا بھی ہے جو میں اپنے دل پر لگا سکوں اور جس سے یہ دردناک تکلیف دور ہو سکے چنانچہ میں اس چیز میں کھویا گیا اور کھویا گیا اور کھویا گیا کہ ہماری کیا حالت تھی اور اب ہم کسی حالت کو پہنچ گئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تب معا میری توجہ اس بات کی۔طرف پھری کہ اے بندہ خدا! کا اصل مقصد مسلمانوں نے فراموش کر دیا اللہ تعالی نے مسلمانوں کو جس عظیم الشان نعمت سے سرفراز کر کے بھیجا تھا اُس کو وہ بھول گئے اور یہ چیزیں جو اُن کی شوکت کا محض عارضی نشان تھیں ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے نہیں آئے تھے کہ بڑے بڑے قلعے بناتے۔اگر وہ اس لئے آتے تو مدینہ منورہ میں کوئی بڑا قلعہ بھی ہوتا ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے نہیں آئے تھے کہ نہریں