انوارالعلوم (جلد 22) — Page 216
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۱۶ سیر روحانی (۵) ویسا ہی آج بھی ہے۔مگر یہاں یہ کیفیت ہے کہ آج سے پانچ یا چھ پشت پہلے ایک شخص ہندوستان کا بادشاہ ہے اور آج وہ پانی بھرتا یا سڑکوں کی صفائی کرتا ہے۔اگر وہ نسلاً بعد نسل ستے کا کام کر رہا ہوتا تو اس پر کوئی گراں نہ گزرتا مگر وہ ایک ایک قدم پر آہیں بھرتا ہے، وہ ایک ایک سانس پر حسرت اور اندوہ کے جذبات میں بہہ جاتا ہے، وہ حیران ہوتا ہے اپنے ماضی پر اور افسوس کرتا ہے اپنے حال پر۔میں نے خود اپنی آنکھ سے دِتی میں بعض شاہی گھرانوں کے شہزادوں کو مشکیں اُٹھائے لوگوں کو پانی پلاتے دیکھا ہے۔میں چھوٹا تھا کہ ا یکدفعہ میں دتی گیا میرا ایک عزیز مجھے کہنے لگا چلو تم کو ایک تماشا دکھاؤں۔وہ مجھے جامع مسجد کے پاس لے گیا وہاں سے مشکیں اُٹھائے آنے جانے والوں کو پانی پلا رہے تھے۔وہ مجھے ایک مٹھے کے پاس لے گیا جو کٹورا ہاتھ میں لئے اسی طرح پانی تقسیم کر رہا تھا۔میرے ساتھی نے اُس سے کہا کہ ہمیں پانی پلاؤ اُس نے کٹورا بھر کر دیا اور جب ہم پانی پی چکے تو وہ خاموشی کے ساتھ سیدھا کھڑا ہو گیا اور تھوڑے توقف کے بعد چلا گیا۔میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ کیا تماشا ہوا ؟ اُس نے کہا، باقی سقوں کو دیکھو ے پانی پلانے کے بعد اپنا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں کہ لاؤ ہمیں کچھ معاوضہ دو اور پانی پینے والے انہیں پیسہ، دو پیسے یا دھیلہ دے دیتے ہیں اور یہ کچھ نہیں کرتا ، پانی پلاتا ہے اور پھر اکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کچھ دیر توقف کے بعد منہ پھیر کر چلا جاتا ہے مانگتا کچھ نہیں کیونکہ یہ شہزادہ ہے اور گو یہ اب لوگوں کو پانی پلاتا ہے مگر اس کی آن اب بھی قائم ہے اگر کوئی دیدے تو لے لیتا ہے اور نہ دے تو چُپ کر کے واپس چلا جاتا ہے۔چنانچہ بعد میں ہم نے اُسے کچھ دیا بھی مگر یہ نظارہ بتاتا ہے کہ ان شہزادوں کی کیا سے کیا حالت ہو چکی ہے۔یہ ساری کیفیت میری آنکھوں کے سامنے آ گئی۔مسلمانوں کے شاندار عہد ماضی کی یاد آخر سات سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی۔راس کماری سے ہمالیہ کی چوٹیوں تک اور پشاور سے لیکر مشرقی پاکستان کے کناروں تک مسلمان حاکم تھا۔مسلمان قوتِ فعال تھا، مسلمان ہی کے پاس فوج تھی، مسلمان ہی کے پاس تجارت تھی ،