انوارالعلوم (جلد 22) — Page 215
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۱۵ سیر روحانی (۵) اصل بات یہ ہے کہ بدھ ایک بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا اور وہ دنیا کے راز کو سوچنے لگا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے یہ راز اُس پر کھول دیا تب گوتم بدھ نے یکدم اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا ” میں نے پالیا میں نے پالیا۔میری کیفیت بھی اُس وقت یہی تھی جب میں اس مادی دنیا کی طرف واپس کو ٹا تو بے اختیار میں نے کہا ” میں نے پالیا میں نے پالیا۔اُس وقت میرے پیچھے میری لڑکی امتہ القیوم بیگم کھڑی تھی اُس نے کہا ابا جان! آپ نے کیا پا لیا ؟ میں نے کہا میں نے بہت کچھ پالیا مگر میں اس وقت تم کو نہیں بتا سکتا اگر اللہ نے چاہا تو میں جلسہ سالانہ پر بتاؤں گا کہ میں نے کیا پایا اُس وقت تم بھی سن لینا۔میں نے جو چیزیں وہاں دیکھیں اور جو اپنے لیکچر میں میں نے سولہ عجائبات سفر گنی بھی ہیں وہ سولہ بڑی بڑی چیزیں تھیں۔اول قلعے، دوم بادشاہوں کے مقابر ، سوم مساجد، چوتھے ایک وسیع اور بلند تر مینار، پانچویں کو بت خانے ، چھٹے باغات، ساتویں دیوانِ عام ، آٹھویں دیوانِ خاص، نویں نہریں ، دسویں لنگر خانے ، گیارہویں دفاتر ، بارہویں کتب خانے ، تیرھویں مینا بازار، چودھویں جنتر منتر ، پندرھویں سمندر، سولہویں آثار قدیمہ۔یہ سولہ چیزیں تھیں جن کا میری طبیعت پر خاص اثر ہو امیں نے عبرت کا مقام جب ان کے متعلق غور کیا تو میں نے دیکھا کہ سمندر کے علاوہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ چیز ہے اور سب کی سب تباہ و برباد ہو گئیں۔نہریں سوکھ گئیں ، مینار ٹوٹ پھوٹ گئے اور مسجدیں بہت سی بر باد اور بہت سی غیر آباد ہو گئیں، کتب خانوں کی خبر گیری کرنے والے کوئی نہ رہے، جنتر منتر تماشا بن کر رہ گئے غرض تمام یادگاریں جو اپنے زمانہ میں دنیا کو محو حیرت بنا دیتی تھیں آج ویران ہو چکی تھیں ، برباد ہو چکی تھیں، تباہ وخستہ حال ہو چکی تھیں اور اپنے بنانے والوں کے انجام پر رو رہی تھیں۔جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اپنے دل میں کہا یہ دنیا کیسی عبرت کی جگہ ہے کہ انسان جتنا اونچا ہوتا ہے اُتنا ہی گرتا ہے۔ایک چوڑھے کا بچہ آج سے ہزار سال پہلے بھی چوڑھا تھا اور ان اب بھی وہ پوڑھا ہے آج اُس کا چوڑھا ہونا اُس پر گراں نہیں گزرتا کیونکہ وہ جیسا پہلے تھا