انوارالعلوم (جلد 22) — Page 105
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۰۵ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر نہ پڑھی ہوں۔ایک شخص جو پاگل ہے وہ مولوی محمد علی صاحب کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے وہ کبھی کبھی مجھے بھی خط لکھ دیتا ہے اور اُس کی نقل مولوی محمد علی صاحب کو بھیج دیتا ہے اور کبھی مولوی محمد علی صاحب کو خط لکھتا ہے اور اس کی نقل مجھے بھیج دیتا ہے۔ایک دن وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ میرے خطوط پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔اُس نے کہا اچھا آپ میرے خطوط پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے یوں کہا ہے تو میں اس کے خط کیوں نہ پڑھوں۔وہ حق پر ہو یا نہ ہونیکن میرا فرض ہے کہ وہ چیز جسے وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے ، ضرور پڑھوں۔وہ مولوی محمد علی صاحب کے پاس گیا اور اُنہیں کہنے لگا آپ بڑے تنگ دل واقع ہوئے ہیں۔میں آپ کا مرید تھا لیکن آپ میرے خطوط نہیں پڑھتے اور جس کا میں مرید نہیں تھا وہ کہتا ہے کہ میں تمہارے خطوط پڑھتا ہوں۔غرض میں نے دنیا کے ہر مذہب کا لٹریچر پڑھا ہے۔میں نے سُنیوں کا لٹریچر پڑھا ہے ، میں نے شیعوں کا لٹریچر پڑھا ہے، میں نے خارجیوں کا لٹریچر پڑھا ہے، ہندوؤں ، زرتشتیوں اور عیسائیوں کا لٹریچر میں نے پڑھا ہے۔مجھے جب خدا تعالیٰ کہے گا بتاؤ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے ہیں تو میں کہوں گا میں نے ہر مذہب کی کتب کا مطالعہ کیا ہے اور ان سے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ کہا ہے وہ ٹھیک ہے لیکن جس نے دوسرے مذاہب کا لٹریچر نہیں پڑھا وہ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دے گا۔خدا تعالیٰ کہے گا مان لیاستی مذہب سچا ہے لیکن جب تم نے بانی سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر شائع کردہ نہیں پڑھا تو تمہیں یہ کس طرح پتہ لگا کہ وہ اپنے دعوئی میں بچے نہیں۔ظاہر ہے کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وعظ فرماتے تو ابو جہل اور اس کے ساتھی شور مچاتے جاتے تھے اور آپ کی بات نہیں سنتے تھے۔اب خواہ وہ اپنے خیال میں سچے بھی ہوں ، پھر بھی وہ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟ جب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سُنا ہی نہیں اور اُس پر غور نہیں کیا۔پس میں جھوٹا سہی ، احمدیت جھوٹی سہی لیکن خدا تعالیٰ کے