انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 99

انوار العلوم جلد ۲۲ ٩٩ شمال کی دُور اطراف سے چڑھا لاؤں گا۔‘کلے بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر یہ سب باتیں پہلے سے لکھی ہیں۔اگر ان میں سے ایک بات پوری ہو گئی تو یقیناً دوسری بات بھی ٹھیک ہے۔اگر روس کا ذکر آ گیا تو یقیناً دوسرا فریق برطانیہ اور امریکہ ہے۔یہ حز قیل علیہ السلام کی پیشگوئی ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ یا جوج اور ماجوج تمام دنیا پر چھا جائیں گے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں پوری ہوگئی ہیں۔آج سے سو سال قبل کیا کسی کے وہم میں بھی آسکتا تھا کہ روس اس طرح ترقی کر جائے گا۔میں اس صدی والوں کو کہتا ہوں کہ ۱۹۰۴ء میں جاپان نے روس کو کس طرح گرایا تھا۔اُس وقت کیا کوئی خیال بھی کر سکتا تھا کہ ایک دن روس اتنا زور پکڑ جائے گا کہ دوسری حکومتیں اس سے لرز نے لگ جائیں گی۔لیکن نوشتوں میں لکھا تھا کہ تو دنیا میں پھیلے گا اور میں تجھے تباہ کروں گا اور ادھر یا جوج کے متعلق لکھا ہے کہ وہ سمندروں کی لہروں اور پہاڑوں کی چوٹیوں سے گزر کر دنیا میں چھا جائے گا۔یہ کتنی صاف پیشگوئی ہے۔کیا تم اسے قرآن کریم سے نکال دو گے؟ یا تو تم کہو یہ غلط ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے تو غلط کیسے ہو سکتی ہے۔یہ تو وہی بُزدل والی بات ہے کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔یا اللہ ! یہ اخواب ہی ہو۔ایک قوم جس کا نام بائبل میں آتا ہے وہ دنیا میں پھیل گئی۔پھر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں خبر دی اور وہ پوری ہو گئی۔اب کیا تم یہ کہو گے کہ قرآن کریم اور بائیبل جھوٹے ہیں اس لئے کہ مرزا صاحب جھوٹے ثابت ہو جائیں۔اسلامی طریق تو یہ تھا کہ تم کہتے۔مرزا صاحب سچے ہی سہی کیونکہ اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم سچے ثابت ہوتے ہیں۔ایک راجہ نے ایک دن دربار میں ذکر کیا کہ میں نے بینگن کھائے ہیں مجھے بہت مزہ آیا۔بینگن بڑی لذیذ سبزی ہے۔ایک درباری کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا۔ہاں ہاں۔حضور! بینگن بڑی لذیذ چیز ہے۔وہ طب بھی پڑھا ہوا تھا۔اُس نے کہا اس میں یہ یہ خوبیاں ہیں۔پھر کہا حضور ! اس کی شکل دیکھیں۔تو بالکل یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی صوفی سبز جبہ پہنے نماز کے لئے کھڑا ہو۔چند دنوں کے بعد راجہ نے دربا میں کہا میں نے بینگن