انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 98

انوار العلوم جلد ۲۲ ۹۸ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر ہے ؟ اگر کوئی شخص جعلی طور پر اپنے آپ کو افسر ظاہر کرے گا تو وہ فوراً اُسے گرفتار کر لے گی۔اور اگر کوئی حکومت ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی تو کیا خدا تعالیٰ اتنا ہی کمزور ہے کہ ایک شخص اُس پر الزام لگاتا ہے اور افتراء کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے وحی کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سب پیشگوئیاں اُس کی ذات میں پوری کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُس زمانہ میں عیسائیوں کا زور ہو گا اور عیسائیوں کا زور ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اُس زمانہ میں یا جوج اور ماجوج چاروں طرف سے پہاڑوں کی چوٹیوں اور سمندروں کی لہروں پر سے گزر کر دنیا پر قابض ہو جائیں گے اور وہ قابض ہو جاتے ہیں لیکن لوگ کہہ دیتے ہیں یہ شخص جھوٹا ہے۔یہ بالکل وہی بات ہے کہ کسی بُز دل کو فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔لڑائی میں اسے ایک تیر آلگا اور اس کے جسم سے خون بہنے لگا۔وہ بُز دل تو تھا ہی۔تیر لگنے کے بعد وہ میدان میں کیسے ٹھہر سکتا تھا۔وہ بے ساختہ پیچھے کو بھاگا۔وہ دوڑتا چلا جاتا تھا اور کہتا چلا جاتا تھا یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔تیر تو جسم میں لگ چکا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔اب اس کے کہنے سے کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو ، خواب کیسے بن سکتا تھا۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ ایک شخص پر سب علامات پوری ہو ہو، چکی ہوں لیکن لوگ کہیں یا اللہ ! یہ جھوٹا ہی ہو۔یا اللہ! یہ جھوٹا ہی ہو۔یہ باتیں بھلا ہو سکتی ہیں ؟ مومن تو خوش ہوتا ہے کہ یہ باتیں پوری ہو جائیں۔پس جاؤ اور لوگوں کو بتاؤ کہ بخاری اور مسلم یہ یہ کہتے ہیں اور یہ سب کچھ پورا ہو گیا ہے۔اب کیا ہم اُس وقت موجود تھے کہ ہم نے خود یہ باتیں انہیں لکھوا دیں؟ اور اگر ہم اُس وقت موجود نہ تھے تو پھر آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے میں انکار کیا ہے؟ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ " یا جوج اور ماجوج پہاڑی رستہ سے بھی آئیں گے اور نشیب کے رستہ سے بھی۔وہ سمندر کے رستہ سے بھی آئیں گے اور خشکی کے رستہ سے بھی۔اور ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔بائیبل میں لکھا ہے: دیکھو اے جو ج ، روش اور مسکہ اور توبل کے فرماں روا ! میں وو تیرا مخالف ہوں اور میں تجھے پھر ا دوں گا اور تجھے لئے پھروں گا۔اور