انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 87

بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر انوار العلوم جلد ۲۲ ۸۷ فرد بن جاتے ہیں۔اس لونڈی نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اسے بہت دکھ ہو اوہ مسلمان تو تھی نہیں سارا دن کام کرتی جاتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دوسرے بزرگوں کو یاد کر کے بڑ بڑاتی جاتی کہ آمنہ کے بچے نے ان کا کیا بگاڑا ہے کہ وہ یونہی اسے مارتے ہیں اور وہ انہیں کچھ بھی تو نہیں کہتا۔سارا دن اُس کے سینہ کے اندر ایک آگ لگی رہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پتھر پر سے اُٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔حضرت حمزہ شکار کے لئے باہر گئے ہوئے تھے شام کو وہ اوپیچی شے بنے نیزہ اور تلوار لٹکائے ہوئے تیر کمان پکڑے اور ہاتھ میں شکار لٹکائے گھر واپس تشریف لائے۔حضرت حمزہ کا گھر میں داخل ہونا تھا کہ وہ لونڈی کھڑی ہو گئی اور اُس نے کہا تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج صبح ابو جہل نے تمہارے بھیجے سے کیا کیا ؟ حضرت حمزہ نے کہا کیا بات ہے؟ یہ سوال سُن کر وہ لونڈی رو پڑی اور اس نے کہا آج میں دروازہ میں کھڑی تھی کہ میں نے دیکھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پتھر پر چپ کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل ( ابو جہل کا اصل نام ابوالحکم تھا ) پاس سے گزرا اور بغیر کچھ کہے اُس نے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا اور بُرا بھلا کہا۔آپ نے صرف اتنا کہا کہ اے لوگو! میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم مجھے مارتے ہومیں تو صرف خدا تعالیٰ کا پیغام تمہیں سناتا ہوں۔پھر وہ لونڈی غصہ میں آکر کہنے لگی خدا کی قسم ! محمد نے ابو جہل کو کچھ بھی تو نہیں کہا تھا۔ایک جاہل عورت کی زبان سے یہ بات سُن کر حضرت حمزہ کو غیرت آگئی اور وہ فوراً واپس لوٹے۔شام کا وقت تھا ابو جہل بیت اللہ میں بیٹھا تھا اور اس کے ار در گرد دوسرے سردارانِ مکہ بیٹھے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئیاں ہو رہی تھیں۔حضرت حمزہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور سید ھے اُس جگہ پر پہنچے جہاں ابو جہل دوسرے سرداروں کے ساتھ بیٹھا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئیاں کر رہا تھا ہاتھ میں تیر کمان تھی آپ نے اُس کا ایک سرا پکڑ کر ابو جہل کے منہ پر دے مارا اور کہا تو بڑا بہادر بنا پھرتا ہے میری لونڈی نے مجھے بتایا ہے کہ میرا بھتیجا ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آج صبح جب ایک پتھر پر بیٹھا تھا تو تو نے اُسے تھپڑ مار اور اس نے تمہیں کوئی وراس